Showing posts with label International News. Show all posts
Showing posts with label International News. Show all posts

Tuesday, 24 August 2021

افغان شہریوں سے دھوکہ ہو گیا، وہ سمجھے ہم امریکہ جا رہے ہیں لیکن کس ملک میں پہنچ گئے

دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی ) افغان شہریوں سے دھوکہ ہو گیا، وہ سمجھے ہم امریکہ جا رہے ہیںلیکن کس ملک میں عارضی میزبانی دے دی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق کابل ائیرپورٹ سے امریکی طیاروں کے ذریعے افغانستان سے نکالےجانے والے پانچ ہزار شہریوں کو امریکہ نہیں لے جایا جائے گا بلکہ امریکہ کی درخواست پر متحدہ عرب امارات نے افغانستان سے نکلنے والے پانچ ہزار شہریوں کی عارضی میزبانی کی منظوری دی ہے۔ امریکہ نے امارات سے درخواست کی تھی کہ دیگر ملکوں میں ان کی مستقل بندوبست سے قبل عارضی طور پر انہیں رہائش فراہم کی جائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی درخواست پر پانچ ہزار افغانیوں کی عارضی میزبانی کی جائے گی۔ اس کے بعد انہیں دیگر ممالک منتقل کردیا جائے گا۔دوسری جانب امریکی ایئر فورس کے مطابق کابل سے انخلا کے آپریشن کے دوران ایک افغان دوشیزہ نے بچے کو اس وقت جنم دیا جب وہ امریکی فوجی طیارے کے ذریعے جرمنی کی رامسٹین ایئر بیس پر سیٹل ہو چکی تھیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی ایئر فورس کی ٹریفک کمان نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں بتایا کہ اپنے ملک افغانستان سے انخلا کے دوسرے مرحلے پر ایک افغان خاتون کو زچگی کے عمل سے گزرنا پڑا۔پرواز کے کپتان کے مطابق افغان دوشیزہ کو دوران پرواز زچگی میں پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑا تو جہاز کے کپتان نے طیارے کی بلندی کم کر دی تاکہ جہاز میں ہوا کا دبا ئوبڑھایا جا سکے جس سے زچہ کی زندگی بچانے میں نہایت مدد ملی۔جہاز کے کپتان نے بتایا کہ لینڈنگ کے وقت عسکری ٹرانسپورٹ طیارے کے کارگو کیبن میں افغان خاتون کے ہاں بچی کی ولادت ہوئی۔انھوں نے بتایا کہ زچہ اور بچہ کو قریبی میڈیکل یونٹ بھجوا دیا گیا ہے جہاں دونوں کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔نیٹو کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد سے اب تک کم سے کم اٹھارہ ہزار افراد کو دارلحکومت سے باہر منتقل کیا ہے۔ قبل ازیں برطانوی فوج نے کہاہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایئرپورٹ میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کے دوران افراتفری کے نتیجے میں مزید 7 افغان باشندے ہلاک ہوگئے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان چھوڑنے کے خواہشمند افراد کے لیے اب بھی خطرہ موجود ہے۔برطانوی فوج نے کابل ایئر پورٹ پر پیش آنے والے واقعے میں 7 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔رپورٹ کے مطابق واقعے میں ہلاک ہونے والوں کو افراتفری کے دوران گہری چوٹیں آئیں، یہ وہ لوگ تھے جو بیرون ملک جانا چاہتے تھے اور طالبان نے انہیں ایئر پورٹ میں داخلے سے روکنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تھی۔برطانوی وزارت دفاع کے جاری بیان کے مطابق زمین پر موجود حالات تا حال چیلنجنگ ہیں لیکن ہم صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے اپنی تمام کوششیں بروئے کار لا رہے ہیں’۔


 

متحدہ عرب امارات نے پاکستانی شہریوں کو سیاحتی ویزے پرملک میں آنے کی اجازت دے دی‎

دبئی (این این آئی) متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے سیاحتی ویزے پر پاکستان سمیت دیگر ممالک کے شہریوں کو ملک میں آنے کی اجازت دے دی ہے۔عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات نے سیاحتی ویزے پر پاکستان سمیت دیگر ممالک کے شہریوں کو ملک آنے کی اجازت دے دی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان، بھارت اور سری لنکا کے پاسپورٹ کے حامل افراد سیاحتی دورے پر متحدہ عرب امارات جا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ نیپال، نائجیریا اور یوگنڈا کے شہری بھی یو اے ای جا سکیں گے، پی سی آر ٹیسٹ کے حوالے سے ہر ملک کے لیے قواعد و ضوابط مختلف ہوں گے۔‎


 

یوکرین کا طیارہ افغانستان میں ہائی جیک کر لیا گیا

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک ، این این آئی) یوکرین کا افغانستان سے اپنے باشندوں کو نکالنے کیلئے بھیجا جانے والا طیارہ کابل ائیرپورٹ سے ہائی جیک کر لیا گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یوکرین کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان سے اپنے باشندوں کو واپس لانے کیلئے طیارہ بھیجا تھا مگر اتوار کی صبح مسلح ہائی جیکر جہاز میں گھس گئے۔یوکرین کے نائب وزیر خارجہ کے مطابق آج منگل کے روز یہ جہاز نامعلوم افراد کے گروہ کو لے کر اڑان بھر گیا ۔جہاز میں یوکرینی باشندوں کی بجائے دیگر افراد موجود ہیں ۔ یوکرینی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ان کے جہاز کو مبینہ طور پر ایران لے جایا گیا ہے ۔خبر ایجنسی کے مطابق طیارہ اب کس حالت میں ہے اس سے متعلق کچھ نہیں بتایا جا سکا۔دوسری جانب افغانستان میں طالبان نے شمال میں واقع تین اضلاع پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔گذشتہ ہفتے ان اضلاع پر مقامی ملیشیائوں نے کنٹرول سنبھال لیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان کے 15 اگست کو دارالحکومت کابل پر کنٹرول کے بعد شمالی صوبہ بغلان میں واقع تین اضلاع بانو ،دیہ صالح اور پلِ حصار پر مقامی ملیشیائوں نے صف بندی کر کے قبضہ کر لیا تھا۔ان کی یہ پیش قدمی اس بات کی علامت تھی کہ طالبان کو شمالی افغانستان میں مسلح مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر کہا کہ ان کی فورسز نے ان تینوں اضلاع کو کلیئر کر لیا ہے۔
اس کے بعد تین شمالی صوبوں بدخشان ، تخار اور اندراب میں بھی کنٹرول مضبوط بنا لیا ہے۔ یہ تینوں صوبے وادیِ پنج شیر کے ساتھ واقع ہیں۔احمد مسعود کی مزاحمتی فورسز میں افغانستان کی منتشر ہونے والی ریگولر فوج اور خصوصی یونٹوں کے دستے شامل ہیں۔انھوں نے طالبان سے مذاکرات سے انکار نہیں کیا ہے اور بحران کے حل کیلیے مذاکرات کے ذریعے ایک مشمولہ حکومت کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ۔بعض غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق طالبان اور شمالی فورسز کے درمیان وادی پنجشیر میں لڑائی چھڑ گئی ہے اور طالبان جنگجوئوں نے اس وادی کی ناکا بندی کر دی ہے جس کی وجہ سے وہاں محصور ملیشیاں کو دوسرے علاقوں سے کمک ملنا مشکل ہو گئی ہے۔ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ افغانستان کے جنوب سے شمال کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع درہ سالانگ کھلا ہوا ہے مگر دشمن فورسز کو وادیِ پنجشیر میں محصور کر دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسلامی امارت اس اس مسئلہ کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔


 

Sunday, 15 August 2021

کابل ایئرپورٹ پر پی آئی اے کے محصور طیاروں کو اڑان بھرنے کی اجازت دے دی گئی

کابل ایئرپورٹ پر پی آئی اے کے محصور طیاروں کو اڑان بھرنے کی اجازت دے دی گئی 

اسلام آباد: افغان دارالحکومت کابل میں طالبان کے داخلے کے بعد، امریکا کے 4 سی ون تھرٹی طیاروں کی لینڈنگ کے لیے کابل ایئرپورٹ بند کردیا گیا جس کے بعد وہاں موجود پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے 2 طیارے محصور ہوگئے تاہم بعد ازاں طیاروں کو اڑان بھرنے کی اجازت دے دی گئی۔ 

تفصیلات کے مطابق افغان دارالحکومت کابل کے ایئرپورٹ پر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے 2 طیارے محصور ہوگئے جنہیں بعد میں اڑان بھرنے کی اجازت دے دی گئی۔ 

ذرائع کے مطابق امریکا کے 4 سی ون تھرٹی طیاروں کی لینڈنگ کے لیے کابل ایئرپورٹ کو اچانک بند کردیا گیا۔ اس موقع پر 2 امریکی ہیلی کاپٹرز نے کابل ایئرپورٹ کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ 

ایئرپورٹ بند ہونے کے بعد پی آئی اے کے دونوں طیاروں ایئر بس 320 اور 777 کو اڑان کی اجازت نہیں دی گئی۔ 320 طیارے میں 170 اور 777 میں 329 مسافر موجود ہیں۔ 

ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ کچھ پاکستانی کابل ایئرپورٹ پہنچے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان جانا ہے، ان کے پاس ٹکٹس موجود نہیں تھے، 8 مسافروں کو ایڈجسٹ کیا گیا۔ 

بعد ازاں کابل ایئرپورٹ اتھارٹی نے پی آئی اے کے طیاروں کو اڑان بھرنے کی اجازت دے دی۔ ترجمان پی آئی اے کے مطابق بوئنگ 777 طیارہ اڑان بھرنے کے لیے تیار ہے جبکہ دوسرا طیارہ کچھ دیر بعد اسلام آباد کے لیے اڑان بھرے گا۔

طالبان کابل میں داخل: طور خم گیٹ بند، سیکیورٹی ہائی الرٹ

پشاور: افغانستان کی سرحد پر طور خم گیٹ ہر قسم کی آمد و رفت اور مال بردار گاڑیوں کے لیے بند کردیا گیا، افغان طالبان کچھ دیر قبل افغانستان کے دارالحکومت کابل میں داخل ہوچکے ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق طالبان کی جانب سے افغان دارالحکومت کابل میں داخلے کے بعد افغانستان کی سرحد پر طور خم گیٹ ہر قسم کی آمد و رفت اور مال بردار گاڑیوں کے لیے بند کردیا گیا۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ طور خم بارڈر پر سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی، افغان حدود میں طور خم بارڈر گیٹ پر طالبان موجود ہیں۔ 

خیال رہے کہ افغان طالبان کچھ دیر قبل افغانستان کے دارالحکومت کابل میں داخل ہوچکے ہیں۔ افغان وزارت داخلہ نے افغان طالبان کے کابل میں داخلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ افغان دارالحکومت میں افغان فورسز اور طالبان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ 

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ کابل کے راستے پرامن طریقے سے داخل ہونے کا ارادہ ہے، کابل میں طاقت کے زور پر داخل نہیں ہوں گے۔ 

ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق کابل میں داخلے سے قبل افغان حکومت سے مذاکرات جاری ہیں تاکہ محفوظ طریقے سے حکومت کی منتقلی ہو۔


 

Thursday, 12 August 2021

ٹیکسی میں موجود سانپ کے ڈسنے سے 4 افراد ہلاک

مصرمیں ایک ٹیکسی میں موجود کوبرا سانپ کے ڈسنے سے ایک ہی خاندان کے کم سے کم چار افراد کی موت کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ یہ واقعہ رواں سال جون میں پیش آیا تھا مگر اس کی تحقیقات کی جا رہی تھیں۔ ٹیکسی ڈرائیور نے گاڑی کے شریک مالک کی طرف سے دیا گیا ایک کوبرا کسی دوسرے مقام تک پہنچانا تھا مگر یہ کوبرا اپنے کارٹن سے باہر نکل آیا اور اس نے ٹیکسی میں جانے والے چار مسافروں کو ڈنگ مار کرہلاک کیا اور ڈرائیور کو بھی مار ڈالا۔ تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ 26 جون کو مصر کی کفر الشیخ گورنری میں پیش آیا۔ چھبیس جون کو ایک خاندان جس میں میاں بیوی، ایک رشتہ دار اور اس کی معمر خالہ نے کار اجرت پرلی۔ ڈرائیور نے اپنی سیٹ کے پیچھے ایک کاٹن میں کوبرا سانپ بند کررکھا تھا۔ اسکندریہ کی ایک پارکنگ اسٹیںڈ سے چلنے والی ٹیکسی کفر الشیخ کی طرف روانہ ہوئی۔ راستے میں ڈرائیور کو سانپ بھیجنے والے شخص کی فون کال آئی۔اس نے کال سنی اور اسے بتایا کہ سانپ بہ خیریت ہے اور وہ اپنے ڈبے میں بند ہے۔ جیسے ہی اس کی کال ختم ہوئی تو سانپ ڈبے سے باہر نکل آیا اور گاڑی کے فرش پر رینگتا ہوا سواریوں پر چڑھ دوڑا۔سواریوں کو ڈسنے اور ان کی موت واقعے ہونے کے بعد سانپ ایکسیلیٹر پیڈل سے باہر نکلا اور ڈرائیور پر حملہ کردیا۔ سانپ کے ڈسنے سے ڈرائیور سے کار بے قابو ہوگئی اور وہ سامنے ایک کار اور کنکریٹ کی رکاوٹ سے جا ٹکرائی جس کے میں ڈرائیور کی بھی موقعے پرموت واقع ہوگئی۔ اس طرح سانپ کی وجہ سے پانچ افرادموقع پر ہلاک ہوگئے۔ کوبرا کار سے باہر نکلا مگر شہریوں نے اسے گھیر کار مار ڈالا۔ فوت ہونے والے شہریوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ اس واقعے کو قدرت پر نہیں ڈالنا چاہیے۔ اگر ڈرائیور زندہ ہوتا تو اس کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ چلایا جاتا۔


 

Monday, 2 August 2021

ہاتھوں سے محروم شخص نے پاؤں سے لکھ کر امتحان پاس کرلیا

دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنی معذوری کو کمزوری نہیں سمجھتے اور ان میں کچھ کر گزرنے کی لگن ہوتی ہے جس کے سبب وہ کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔

ایسے ہی ایک طالب علم بھارتی شہر لکھنؤ سے تعلق رکھتے ہیں، بارہویں جماعت کے طالب علم ’توشار وشواکرما‘ ہیں جو پیدائشی طور پر ہاتھوں سے معذور ہیں لیکن پڑھائی کے شوق نے ان کے ذہن میں کبھی اس خیال کو حاوی نہ ہونے دیا کہ وہ معذور ہیں اور لکھ نہیں سکتے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق حال ہی میں توشار نے بارہویں جماعت کے امتحانات میں پیر کے انگوٹھے سے لکھ کر کامیابی حاصل کی اور 70 فیصد نمبر حاصل کیے۔

انجینئر بننے کے خواہشمند توشار نے بتایا کہ اسکول میں داخلے کی سب سے بڑی رکاوٹ یہ تھی میں لکھوں گا کیسے، میں نے پڑھائی کا آغاز کیا اور لکھنے کے لیے پاؤں کے انگوٹھے کو ہاتھوں کی جگہ استعمال کرنا شروع کردیا۔

طالب علم کا کہنا تھا کہ میرے والد ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں، انہوں نے میرے داخلے کے لیے کئی اسکولوں کے چکر لگائے اور بالآخر ایک اسکول میں مجھے داخلہ مل گیا، دن بھر کے 6 گھنٹے میں پاؤں سے لکھنے کی کوشش کرتا تھا تاکہ لکھائی میں تیزی لاسکوں۔

توشار نے مزید کہا کہ میری پیدائش کے بعد والدین کو معلوم ہوا کہ دونوں ہاتھ کام نہیں کرتے جسے کبھی میں نے کمی کے طور پر نہیں لیا، جب مجھ سے بڑے دو بہن بھائی نے اسکول جانا شروع کیا تو مجھے بھی شوق ہوا جس کے بعد میں ںے والدین سے درخواست کی تھی۔

دوسری جانب اساتذہ کا کہنا تھا کہ توشار نے بورڈ کے امتحانات میں نہ ہی اضافی وقت مانگا اور نہ ہی لکھنے کے لیے کسی سے مدد کی درخواست کی بلکہ انہوں نے خود ہی امتحانات مکمل کیے۔


 

ٹیلی فون کے موجد گراہم بیل نے آج کے دن ہمیشہ کے لیے اپنی آنکھیں موند لی تھیں

1922ء میں آج ہی کے دن الیگزینڈر گراہم بیل نے دنیا ہمیشہ کے لیے چھوڑ دی تھی۔ ان کی ایک ایجاد کی بدولت انسان فاصلے سے براہِ راست آواز کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کے قابل ہوا تھا۔ ان کی اس ایجاد کو ہم ٹیلی فون کہتے ہیں۔

اسکاٹ لینڈ ان کا وطن تھا جو بعد میں امریکا منتقل ہوگئے، وہ ایک انجینئر اور اختراع ساز تھے جنھوں نے 2 جون 1875ء کو ٹیلی فون ایجاد کیا جو دنیا بھر میں انسانوں کے درمیان رابطے اور بات چیت کا وسیلہ بنا۔ آج ہم وائر لیس ٹیکنالوجی اور اسمارٹ فونز کے دور میں زندہ ہیں، لیکن 1885ء میں جب گراہم بیل نے ٹیلی فون کمپنی کی بنیاد رکھی تو مواصلات کی دنیا میں انقلاب برپا ہوگیا۔

الیگزینڈر گراہم بیل نے اسکاٹ لینڈ کے شہر ایڈن برگ میں 3 مارچ 1847ء کو ایک پروفیسر اور ماہرِ لسانیات کے گھر میں آنکھ کھولی۔ ان کی والدہ قوّتِ سماعت سے محروم تھیں۔ کہتے ہیں گراہم بیل کو ان کی والدہ کی اسی محرومی نے سائنس اور نشریاتی رابطوں کے تجربات پر آمادہ کیا تھا۔ گراہم بیل شاعری، آرٹ اور موسیقی کا شوق رکھتے تھے اور پیانو بھی بجانا جانتے تھے۔

انھوں نے 14 برس کی عمر میں گندم صاف کرنے والی ایک مشین بنائی تھی جو ان کی پہلی ایجاد تھی۔ تعلیم کا سلسلہ ایڈن برگ کے رائل ہائی اسکول اور ایڈن برگ یونیورسٹی اور یونیورسٹی کالج آف لندن سے مکمل کیا۔

گراہم بیل 23 برس کی عمر میں تپِ دق کے عارضے میں مبتلا ہوئے تو والدین انھیں کینیڈا کے ایک صحت افزا مقام پر لے گئے جہاں بیل ایسے ٹیلی گراف کے تصور کو عملی شکل دینے کے لیے کام کرتے رہے، جو ایک ساتھ کئی پیغامات وصول کر سکے۔ اس ضمن میں مزید کام اور عملی تجربات نے انھیں کام یابی دی اور انھوں نے فلاڈیلفیا میں ٹیلی فون کی نمائش اور اس کے کام کا عملی مظاہرہ کیا۔

الیگزینڈر گراہم بیل کو حکومت کی جانب سے انعام و میڈلز کے علاوہ کئی کالجوں اور یونیورسٹیوں نے اعزازی ڈگریاں دیں۔

75 برس کی عمر میں ذیابیطس کے مرض سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں اور طبّی مسائل نے انھیں علیل کردیا تھا اور اسی باعث ان کا انتقال ہوگیا۔


 

Friday, 30 July 2021

دوستی کیسا ناتا؟ (عالمی یومِ دوستی پر ایک تحریر)


دوستی کیسا ناتا؟ (عالمی یومِ دوستی پر ایک تحریر) 

دوستی کیسا ناتا؟ دوستی ایسا ناتا جو سونے سے بھی منہگا۔ افشاں احمد کی آواز میں یہ خوب صورت گیت ہماری سماعتوں میں آج بھی تازہ ہے اور ایک سنہری یاد کے طور پر محفوظ ہے۔ 

نئے ہزاریے میں آنکھ کھولنے والوں نے بھی شاید یہ گیت سنا ہو جس کے میٹھے اور شیریں بول ہر دل میں اتر جاتے ہیں اور وہ آفاقی پیغام ہم تک پہنچتا ہے جسے آج عالمی یومِ دوستی کی مناسبت سے تازہ کرنے کی ضرورت ہے۔ 

ایک دوسرے سے ربط و تعلق، آشنائی، نسبت و سروکار، انسیت اور لگائو اور اسی فطری جذبے اور ضرورت کے تحت آپس میں میل جول کو ہم دوستی کا نام دے سکتے ہیں۔ دیکھا جائے تو پیدائش کے ساتھ ہی انسان ایسے تعلق اور ربطِ باہمی کی بنیاد بھی رکھتا چلا جاتا ہے جو بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ اور سنِ شعور کو پہنچنے پر اس کے اختیار اور خواہش و مرضی کے تابع ہوجاتا ہے اور اسی کو ہم دوستی کا نام دیتے ہیں۔ 

تعلق کی اس لڑی میں بالخصوص ہم عمر عزیز و اقارب کے ساتھ پڑوسی، ساتھی طلبا اور زندگی کے مختلف ادوار میں ملنے والے شامل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ 

دنیا بھر کی طرح آج پاکستان میں بھی دوستی کا عالمی دن منایا جارہا ہے، جس کا مقصد اس خاص تعلق کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ 

کہا جاتا ہے کہ 'ورلڈ فرینڈ شپ ڈے' منانے کا باقاعدہ آغاز 1958ء میں پیرا گوائے سے ہوا جو بعد میں دنیا بھر میں منائے جانے لگا، لیکن 27 اپریل 2011ء کو اقوامِ ِمتحدہ نے ہر سال 30 جولائی کو عالمی سطح پر یہ دن منانے کا اعلان کیا۔ 

موجودہ دور میں جہاں سوشل میڈیا اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں کے ذریعے ہم اپنے ملک ہی نہیں دنیا بھر میں مختلف رنگ و نسل، ‌مذہب و ثقافت سے جڑے اجنبی اور انجان لوگوں سے شناسائی پیدا کررہے ہیں اور یہ تعلق یا شناسائی دوستی میں بدل رہی ہے تو اس دن کو باقاعدہ منانے کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے۔ 

پُرخلوص اور بے غرض دوست ضرور بنائیے، پیار اور محبّت بانٹیے، خوشی و مسرّت، راحت و آزمائش کی گھڑی میں دوست کا ساتھ دیجیے، لیکن ایک بار اردو کے بڑے شاعر حفیظ ہوشیارپوری کا یہ شعر پڑھ ضرور لیجیے۔ 

دوستی عام ہے لیکن اے دوست 

دوست ملتا ہے بڑی مشکل سے!


 

مسجد الحرام میں توسیعی منصوبے پر کام بحال


مسجد الحرام میں توسیعی منصوبے پر کام بحال
مسجد الحرام میں تیسرے سعودی توسیع کے منصوبے پر کام بحال ہو گیا۔
حج کی وجہ سے توسیع کا کام روک دیا گیا تھا حجاج سہولت کیلئے توسیع حصہ استعمال میں لانے ‏کیلئے کام روکا گیا تھا۔کورونا وبا میں حج کے محفوظ اور کامیاب انعقاد کے بعد مسجد الحرام میں تیسرے توسیع ‏منصوبے پر دوبارہ سے کام شروع کر دیا گیا ہے۔
بجلی، مشینی امور، تعمیراتی اور آرائشی کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ باب الملک عبدالعزیز،باب ‏العمرہ اور باب الفتح کےبڑے مینار تیارہوں گے۔
مطاف کی منزلوں کی معلق چھتیں نصب کی جائیں گی جب کہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبے اور ‏امدادی خدمات کے کام بھی مکمل ہوں گے۔
تیسری توسیع پر تعمیراتی کمپنی کے پاس 60 ضروری اجازت نامے موجود ہیں۔


 

Tuesday, 27 July 2021

کونسے ملک میں گھر کا خرچہ چلانے کے لیے بیٹیوں کو شرمنا ک کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ؟


کونسے ملک میں گھر کا خرچہ چلانے کے لیے بیٹیوں کو شرمنا ک کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ؟ 

شدت پسندی اور مذہبی جنونیت ہی بھارت کا واحد تعارف نہیں ہے بلکہ اس ملک میں جسم فروشی کا مکروہ کاروبار بھی اس قدر عام پایا جاتا ہے۔ کہ اس کے وسعت اور پھیلاؤ پر یقین کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔ 

اس ملک میں کچھ علاقے تو ایسے بھی ہیں کہ جہاں آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہی جسم فروشی ہے اور زندگی کا دارومدار اسی کام پر ہے۔ 

ریاست گجرات کا گاؤں واڈیا بھی ایک ایسی ہی جگہ ہے جہاں پر یہ مکروہ دھندہ ناصرف علی الاعلان کیا جاتا ہے۔ بلکہ یہاں کے لوگ اپنے اس کام پر فخر بھی کرتے ہیں۔ 

اسی طرح ریاست مدھیا پردیش کے بچارا قبائل میں لڑکیاں جب 14 سال کیعمر کو پہنچ جاتی ہیں تو انہیں اس مکروہ کاروبار میں ڈال دیا جاتاہے۔اور اس کیلئے ان کے گھروں میں ایک علیحدہ کمرہ بھی تعمیر کیا جاتاہے جبکہ اب یہ دیگر ذاتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کو بھی اس دلدل میں لانے کیلئے کوشاں ہیں۔ اس قبیلے کے لوگوں نے اپنے کاروبار کو وسعت دینے کیلئے اب بچوں کی خریدو فروخت بھی شروع کر دی ہے، 

یہ تفصیلات اس وقت منظر عام پر آئیں جب مقامی پولیس نے علاقے میں جسم فروشی کیخلاف مہم شروع کی اور چھاپوں کے دوران ایک اور انکشاف بھی ہوا کہ لوگ خالی جسم فروشی کے مکروہ کاروبار میں ہی نہیں بلکہ انسانی سمگلنگ میں بھیملوث ہیں۔ 

ریاست اترپردیش کے گاؤں نت پوروا میں گزشتہ چار صدیوں سے جسم فروشی کا کام روایت کے طور پر جاری ہے۔ کماتکا گاؤں میں کنواری لڑکیوں کی نیلامی کی جاتی ہے اور پھر وہ ساری عمر عصمت فروشی کے دھندے میں گزارتی ہیں۔ 

اسی طرح بھارت کی دیگر کئی ریاستوں میں ایسے علاقے ہیں جہاں پورے کے پورے گاؤں ہی اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں۔اور یہ سلسلہ قدیم وقتوں سے اسی طرح جاری ہے۔ مودی سرکار کی پست سوچ ملاحظہ ہو کہ اس تاریک پہلو پر توجہ دینے کی بجائے اس کے سر پر جنگی جنون سوار ہے۔




 

سلطانا کی موت کے بعد انگریز اسکے بیٹے کو انگلینڈ کیوں لے گئے تھے ؟ وہ حیران کن حقائق جن سے اب تک ہر کوئی لاعلم ہے


سلطاناکی موت کے بعد انگریز اسکے بیٹے کو انگلینڈ کیوں لے گئے تھے ؟ وہ حیران کن حقائق جن سے اب تک ہر کوئی لاعلم ہے 

 امیروں کا مال لوٹنا اور غریبوں میں تقسیم کرنے کا ذکر ہو تو 14ویں صدی کا ایک کردار 'رابن ہڈ' یاد آتا ہے جو اپنے ساتھیوں سمیت برطانوی کاﺅنٹی ناٹنگھم شائر میں شیروڈ کے جنگلات میں رہتا تھا۔وہ ایک عام شہری تھا لیکن ناٹنگھم کے بدقماش شیرف نے اس کی زمین چھین لی تھی 

نامور صحافی ، مضمون نگار اور محقق عقیل عباس جعفری بی سی کے لیے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ لوٹ مار کرنے لگا تھا۔اس کے بارے میں کئی ناول لکھے گئے اور بہت سے فلمیں بنیں مگر پھر بھی اس کے بارے میں یہ بحث موجود ہے کہ وہ حقیقی زندگی میں وجود رکھتا بھی تھا یا نہیں۔تاہم ایسا ہی ایک کردار ہندوستان میں بھی گزرا ہے جو روایت کے مطابق امیروں کو لوٹتا تھا 

اور غریبوں کی مدد کرتا تھا۔ یہ کردار تھا سلطانا (یا سلطانہ) جسے 96 سال پہلے آج ہی کے دن 7 جولائی 1924 کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا تھا۔سلطانا کے عقیدے کے متعلق کچھ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔ 

بیشتر لوگوں کے نزدیک وہ مسلمان تھا جبکہ چند مؤرخین نے اسے ہندو عقیدے کا پیرو کار بتایا ہے کیوں کہ وہ بھاتو قوم سے تعلق رکھتا تھا جو عقیدے کے لحاظ سے ہندو تھی۔سلطانا اور اس کے گروہ کے لوگ ضلع مراد آباد کے رہنے والے تھے اور سب کے سب جرائم پیشہ تھے۔ سلطانا اور اس کے گروہ کے افراد مختلف جرائم میں سزا کے طور پر یو پی کے علاقے نجیب آباد میں پتھر گڑھ کے قلعے میں قید کیے گئے تھے مگر آہستہ یہ افراد قید سے فرار ہونے لگے اور انھوں نے بھاتو قوم ہی کے ایک شخص بالم کند کی قیادت میں چوری چکاری کی وارداتیں شروع کر دیں۔بالم کند ایک دن اپنے زعم میں مالوف خان نامی ایک بہادر پٹھان سے الجھ بیٹھااور زندگی سے گیا جس کے بعد اس گروہ کی قیادت سلطانا کے ہاتھ میں آگئی۔ 

سلطانا ابتدا میں چھوٹی موٹی چوری چکاری کرتا تھا۔ اردو کے پہلے جاسوسی ناول نگار اور اپنے زمانے کے مشہور پولیس آفیسر ظفر عمر اسے ایک مرتبہ گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے جس پر انھیں پانچ ہزار روپے کا انعام ملا۔ظفر عمر کی صاحبزادی حمیدہ اختر حسین رائے پوری نے اپنی کتاب 'نایاب ہیں ہم' میں لکھا ہے کہ ظفر عمر نے سلطانا کو ایک دوبدو مقابلے میں گرفتار کیا تھا۔اس وقت سلطانا پر سوائے چوری چکاری کے کوئی سنگین الزام نہ تھا اس لیے اسے محض چار سال کی قید بامشقت سزا سنائی گئی۔ 

ظفر عمر نے اس کی گرفتار پر ملنے والی رقم اپنے سپاہیوں اور علاقے کے لوگوں میں تقسیم کر دی تھی۔ بعدازاں ظفر عمر نے اردو میں کئی جاسوسی ناول تحریر کیے جن میں پہلا ناول 'نیلی چھتری' تھا اور اس کی کہانی کا محور سلطانا ہی تھا۔ رہائی کے بعد سلطانا نے اپنے گروہ کو ازسرنو منظم کیا۔ اس نے نجیب آباد اور ساہن پور کے سرکردہ لوگوں سے رابطے استوار کیے اور اپنے قابل اعتماد مخبروں کا جال بچھا کر وارداتیں شروع کر دیں ۔ 

اسے اپنے مخبروں کے ذریعے مالدار آسامیوں کی خبر ملتی۔سلطانا ہر واردات کی منصوبہ بندی بڑی احتیاط کے ساتھ کرتا اور ہمیشہ کامیاب لوٹتا۔ اپنے زمانے کے مشہور شکاری جِم کاربٹ نے بھی اپنی کئی تحریروں میں سلطانا کا ذکر کیا ہے۔ ظفر عمر کے مطابق سلطانا بڑے نڈر طریقے سے واردات ڈالتا تھا اور ہمیشہ پہلے سے لوگوں کو مطلع کر دیتا تھا کہ مابدولت تشریف لانے والے ہیں۔ 

واردات کے دوران وہ جسمانی نقصان پہنچانے سے حتیٰ المقدور گریز کرتا لیکن اگر کوئی شکار مزاحمت کرتا اور اسے یا اس کے ساتھیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا تو وہ حد سے گزرنے سے دریغ نہ کرتا۔ یہ بھی مشہور ہے کہ غریب عوام اس کی درازی عمر کی دعائیں مانگتے اور وہ بھی جس علاقے سے مال لوٹتا وہیں کے ضرورت مندوں میں تقسیم کروا دیتا۔سلطانا کی وارداتوں اور داد کا یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا، مگر انگریزوں کی حکومت تھی اور وہ یہ صورتحال زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ پہلے تو انھوں نے ہندوستانی پولیس کے ذریعے سلطانا کو ختم کرنے کی کوشش کی مگر سلطانا کے مخبروں اور غریب دیہاتیوں کی مدد کے باعث وہ اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہوسکے۔ 

بالآخر انگریزوں نے سلطانا کی گرفتاری کے لیے برطانیہ سے فریڈی ینگ نامی ایک تجربہ کار انگریز پولیس افسر کو انڈیا بلانے کا فیصلہ کیا۔ فریڈی ینگ نے ہندوستان پہنچ کر سلطان کی تمام وارداتوں کا تفصیلی مطالعہ کیا اور ان واقعات کی تفصیل معلوم کی جب سلطانا اور اس کے گروہ کے افراد پولیس کے ہاتھوں گرفتاری سے صاف بچ نکلے تھے۔فریڈی ینگ کو یہ نتیجہ نکالنے میں زیادہ دیر نہ لگی 

کہ سلطانا کی کامیابی کا راز اس کے مخبروں کا جال ہے جو محکمہ پولیس تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ یہ بھی جان گیا کہ منوہر لال نامی ایک پولیس افسر سلطانا کا خاص آدمی ہے جو سلطانا کی گرفتاری کی ہر کوشش کی خبر اس تک پہنچا دیتا ہے اور اس سے قبل کہ پولیس سلطانا کے ٹھکانے تک پہنچتے وہ اپنے بچاﺅ کی تدبیر کر لیتا ہے۔ 

فریڈی ینگ نےسلطانا کو گرفتار کرنے کے لیے بڑی ذہانت سے منصوبہ سازی کی۔ سب سے پہلے تو اس نے منوہر لال کا تبادلہ ایک دور دراز کے علاقے میں کر دیا، پھر نجیب آباد کے عمائدین کی مدد سے سلطانا کے ایک قابل اعتماد شخص منشی عبدالرزاق کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو گیا۔ سلطانا منشی عبدالرزاق پر حد سے زیادہ بھروسہ کرتا تھا۔سلطانا کی جائے پناہ نجیب آباد کے نواح میں واقع جنگل تھا جسے کجلی بن کہا جاتا تھا۔ یہ جنگل انتہائی گھنا اور درندوں سے بھرا ہوا تھا مگر سلطانا اس جنگل کے چپے سے واقف تھا۔ اس کی کمین گاہ جنگل کے ایسے گھنے علاقے میں تھی جہاں دن کے اوقات میں بھی سورج کی روشنی نہیں پہنچتی تھی۔ 

سلطانا بھیس بدلنے کا بھی ماہر تھا اور اس کے چھریرے بدن کی وجہ سے اسے دیکھنے والا کوئی شخص بھی نہیں جان پاتا تھا کہ یہ سلطانا ہوسکتا ہے۔فریڈی ینگ نے منشی عبدالرزاق کی اطلاعات کی بنیاد پر سلطانا کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کیا۔ منشی عبدالرزاق ایک جانب سلطانا سے رابطے میں تھا اور دوسری طرف اس کی نقل و حرکت کی اطلاع فریڈی ینگ تک پہنچا رہا تھا۔ 

ایک دن منشی نے سلطانا کو ایک ایسے مقام پر بلایا جہاں پولیس پہلے سے ہی چھپی ہوئی تھی۔ سلطانا جونہی منشی کے بچھائے ہوئے جال تک پہنچا تو سیموئل پیرس نامی ایک انگریز افسر نے اسے اپنے ساتھیوں کی مدد سے قابو کر لیا۔ سلطانا نے پہلے مزاحمت کرنی چاہی مگر پولیس اس سے ہتھیار چھیننے میں کامیاب ہو چکی تھی ۔ 

اب اس نے بھاگنا چاہا مگر ایک کانسٹیبل نے اس کے پیروں پر بٹ رسید کرکے گرا دیا اور یوں سلطانا گرفتار ہو گیا۔ اس کام کی نگرانی فریڈی ینگ کر رہے تھے جنھیں اس کارنامے کے بعد ترقی دے کر بھوپال کا آئی جی قید خانہ جات بنا دیا گیا۔



 

Monday, 19 July 2021

افغان حکومت کی جانب سے سفیر واپس بلائے جانے پر پاکستان کا رد عمل بھی سامنے آگیا


اسلام آباد ; افغان حکومت کی جانب سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلائے جانے کے فیصلے کو پاکستان نے افسوس ناک قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق افغان حکومت کا اپنے سفیر اور سفارتی عملےکو واپس بلانےکا فیصلہ بدقسمتی اور افسوس ناک ہے۔ 

جیو نیوز کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ افغان سفیر کی بیٹی کےاسلام آبادمیں مبینہ اغواکی تحقیقات جاری ہیں، وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر معاملےکی تحقیقات اعلیٰ سطح پر ہو رہی ہیں۔ان کا کہنا ہےکہ افغان سفیر، ان کے خاندان اور دیگر سفارتی عملے کی سیکیورٹی بڑھادی ہے، سیکرٹری خارجہ نے آج افغان سفیر سے ملاقات بھی کی اور افغان سفیر کو معاملے پر حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا، سیکرٹری خارجہ نے افغان سفیرکو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان افغان حکومت سے فیصلے پر نظر ثانی کی امید رکھتا ہے۔


 

Wednesday, 14 July 2021

بھارت کے حالات : عالمی ادارہ صحت نے وارننگ جاری کردی


ممبئی(ویب ڈیسک )عالمی ادارہٰ صحت نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں کورونا کا پھیلاو¿ روکنا انتہائی مشکل کام ہے۔تقصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ اجتماعات کو محدود کیے بغیر کورونا کا پھیلاو¿ ممکن نہیں،بھارت میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ریاست مہاراشٹرا ہے 

جہاں کل کیسز کی تعداد تقریباً 41 لاکھ ہے۔اس کے علاوہ ریاست کیرالا، کرناٹکا، تامل ناڈو اور ا?ندھرا پردیش بری طرح کورونا کی لپیٹ میں ہیں۔خیال رہے کہ بھارت میں کورونا کے کل کیسز کی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔


 

جو مسلمان احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کرتا ، وہ گناہگار ہے۔۔۔“ سعودی وزیر برائے اسلامی امور ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ نے ایس او پیز پر عمل شرعاً واجب قرار دے دیا


ریاض سعودی عرب میں کورونا کیسز میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ آٹھ ماہ کے بعد مملکت میں کورونا کے یومیہ کیسز مسلسل کئی روز سے ایک ہزار سے زائد ہو گئے ہیں۔ جس کے بعد اس وبا کے بے قابو ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ سعودی وزیر برائے اسلامی امور و دعورت و ارشاد ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ نے کورونا سے متعلق احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے والوں کو گناہگار قرار دے دیا ہے۔

ڈاکٹر آل آلشیخ نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ جو افراد کورونا سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر پر عمل نہیں کر رہے ، وہ درحقیقت گناہ گار ہیں کیونکہ موجودہ وبا کے دوران ایس او پیز پر عمل کرنا شرعی طور پر واجب ہے اور ہماری قومی ذمہ داری بھی ہے۔ سعودی وزیر نے بتایا ہے کہ کورونا وبا کے باعث نمازیوں کی بھی بڑی گنتی نشانہ بن رہی ہے۔

جس کی وجہ سے ان مساجد کو عارضی طور پر بند کیا جاتا ہے اور پھر سینیٹائزنگ کا عمل مکمل ہونے کے چند روز بعد کھول دیا جاتا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ مساجد کے ذمہ دار افراد اور نمازی احتیاطی تدابیر ماسک پہننا، سماجی فاصلہ اور سینیٹائزیشن پر پوری طرح عمل کریں تاکہ مساجد میں کورونا پھیلنے کے سلسلے کو روکا جا سکے۔ دوسری جانب سعودی عرب کے مفتی اعظم اور علما کونسل کے چیئرمین الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس میں مبتلا افراد دوسرے لوگوں کے ساتھ میل جول سے گریز کریں۔
انہوں نے کہا کہ جو افراد کورونا کے مرض میں مبتلا ہو گئے ہوں انکا دوسرے افراد کے ساتھ میل جول رکھنا حرام ہے۔مفتی اعظم نے کہا اسلام وبا کے شکار افراد سے صحت مند افراد کی جانوں کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ اسلام کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی اور دوسروں کی صحت کی حفاظت کریں۔انہوں نے شہریوں اورغیر ملکیوں پر زور دیا ہے کہ وہ وبا کی روک تھام کے لیے حکومت اور سرکاری اداروں کی طرف سے وضع کردہ شرائط و ضوابط پر سختی کے ساتھ عمل کریں۔


 

سرٹیفکیٹ موجود ہونا لازمی قرار۔۔۔!!!بیرون ملک سے آنے والے عازمین حج کے لیے خصوصی ہدایات جار ی کر دی گئیں


ریاض سعودیہ میں حج و عمرہ خدمات کے نائب وزیر ڈاکٹر امرالمداح ے خبردار کیا ہے کہ کورونا ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لگوائے بغیر کسی بھی زائر کو مسجد الحرام یا مسجد نبوی میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔انہوں نے بتایا کہ مسجد الحرام میں روزانہ 50 ہزار عمرہ زائرین اور ایک لاکھ نمازیوں کا استقبال کیا جاسکتا ہے۔ 

اُردو نیوز کے مطابق ڈاکٹر المداح نے بتایا کہ شاہی فرمان کے مطابق حرم مکی میں داخل ہونے والوں کے لیے ویکسین ضروری ہے۔مجوزہ طور پر بیرون ملک سے آنے والوں کو لازمی طور پر ویکسین سرٹیفکیٹ ساتھ رکھنا ہوگا جس سے معلوم ہوسکے کہ انہیں ویکسین لگائی گئی ہے۔اعتمرنا ایپ اور توکلنا ایپ کے استعمال کے بعد عمرہ زائر یا نمازی کو داخلے کا اجازت نامہ جاری کیا جاتا ہے جسے وہ استقبالیہ مرکز میں دکھا سکتے ہیں۔ 

علاوہ ازیں زائر کو لائسنس یافتہ ٹرانسپورٹ خدمات لینے کی ضرورت ہے کیونکہ ان بسوں میں جراثیم کش ادویہ کا چھڑکاو اور نشستوں کے درمیان جگہ چھوڑنے کی احتیاطی تدابیر اپنائی گئی ہیں۔ اس کے بعد سیکیورٹی وجوہ کی بنا پر زائر سیعمرہ اور نماز کے لئے وقت مختص کرنے سے قبل ایک بار پھر اجازت نامے کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔بیرون ملک سے آنے والے حجاج کرام کی صحت کا سٹیٹس اگر توکلنا سسٹم میں داخل نہیں ہوا تو انہیں ہیلتھ کیئرسنٹر کا دورہ کرنا ہوگا جہاں انہیں تمام تر مطلوبہ مدد میسر ہوگی۔ 

ان کی صحت کا احوال ان کے آبائی ملک کے فراہم کردہ ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ اس کے بعد عمرہ کی ادائیگی کے لئے مناسب تاریخ مخصوص کردی جائے گی۔اجازت نامے کے بغیرعمرہ ادا کرنے پر 10ہزار ریال اور بغیراجازت نامہ کے حرم شریف میں داخلے پر ایک ہزار ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا۔مکہ میں فیلڈ ٹیمیں چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہیں تاکہ زائرین کی صحت اور ضروریات کا خیال رکھا جا سکے۔ 

سیکیورٹی ادارے وزارت حج و عمرہ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔اس وقت مکہ میں عمرہ زائرین کی بسیں، ٹکٹ کاوٴنٹرز اور دیگر سہولیات کے ہر مقام پر جراثیم کش سپرے کیا جا رہا ہے۔ ہر چکر کے بعد بس میں چھڑکاو ہوتا ہے اور ہر ا?دھے گھنٹے بعد استقبالیہ مراکز کو بھی اسی عمل سے گزارا جارہا ہے کیونکہ حفاظتی اقدامات کے لیے یہ ضروری ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال حج کے لیے ویکسی نیشن کے معاملے پر ابھی کوئی شاہی فرمان جاری نہیں کیا گیا۔ حکم نامے کے مطابق وزارت حج کی جانب سے مکمل کارروائی کی جائے گی۔


 

عالمی ادارے آکسفیم کی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے


کورونا سے زیادہ جان لیوا کووڈ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بڑھتی ہوئی بھوک اور بیروزگاری ہو گی- عالمی ادارے آکسفیم کی رپورٹ۔

وزیرِاعظم عمران خان کے بروقت اقدامات کے نتیجے میں پاکستان بھوک سے شدید متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل نہیں!

‏لیکن دنیا بھر کے مستند ادارے مان رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کی کرونا کے دوران اپنائی گئی پالیساں نہ صرف درست تھی بلکہ ان کی وجہ سے پاکستان ایک بڑے معاشی بحران سے بچ گیا اور بھوک سے شدید متاثرہ ممالک کی فہرست میں بھی شامل نہیں