Showing posts with label national News. Show all posts
Showing posts with label national News. Show all posts

Tuesday, 24 August 2021

رکشہ ڈرائیور اور ساتھی نے رات کی تاریکی میں خاتون سے زیادتی کی،ملزمان رکشہ چھوڑ کر فرار ہو گئے

لاہور میں دو ملزمان نے ماں بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں رنگ روڈ زیادتی کیس کی طرز کا ایک واقعہ پیش آیا ہے جہاں رکشہ ڈرائیور اور اس کے ساتھی نے وہاڑی کی رہائشی ماں بیٹی کو تھانہ چوہنگ کی حدود میں مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ وہاڑی کی رہائشی خاتون ٹھوکر نیاز بیگ پر مسافر گاڑی سے اتری اور صدر کینٹ جانے کے لیے رکشہ بک کرایا تاہم رکشہ ڈرائیور خاتون اور اس کی بیٹی کو گھما پھرا کر ایل ڈی اے ایوینیو لے گیا۔
رکشہ ڈرائیور نے رات کی تاریکی میں خاتون سے زیادتی کی۔رکشہ ڈرائیور اور اس کے ساتھی نے ماں بیٹی سے باری باری زیادتی کی تاہم شور مچانے پر دونوں رکشہ چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
دونوں افراد خاتون کا موبائل اور پانچ ہزار روپے بھی لے گئے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ماں بیٹی وہاڑی سے بہن کو ملنے کے لیے رات 10 بجے لاہور پہنچیں ملزمان نے دونوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور فرار ہو گئے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے 48 گھنٹوں میں ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے،تحقیقاتی ٹیمیں موقع سے شواہد جمع کر رہی ہیں اور خاتون کو میڈیکل کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔پولیس نے مزید کہا کہ ماں بیٹی کا میڈیکل کرا لیا گیا ہے اور شواہد اکٹھے کر کے زیادتی کا شکار ماں بیٹی کے بیانات بھی قلمبند کر لیے ہیں۔ملزمان کے قریب پہنچ گئے ہیں اور انہیں جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
دوسری جانب راولپنڈی میں تھانہ پیر ودھائی کی حدود میں مدرسے کے استاد کی جانب سے طالبہ کے ساتھ مبینہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا ۔پولیس کے مطابق طالبہ کی والدہ کا ایف آئی آر میں کہنا ہے مدرسے سے فون آیا کہ آپ کی بچی بے ہوش ہو گئی ہے اسے لے جائیں، جس کے بعد بچی نے گھر پہنچ کر بتایا کہ مدرسے کے استاد شاہنواز نے اس کے ساتھ زبردستی کی ہے۔
بچی کی والدہ نے پولیس کو بتایا کہ بیٹی کے مطابق استاد نے متعدد بار اس کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی۔تھانہ پیر ودھائی پولیس کے مطابق واقعہ کی ایف آر درج کر لی گئی ہے، میڈیکل رپورٹ کا انتظار ہے، ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں بچی پر شدید تشدد کے نشانات واضح ہیں۔پولیس نے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔دوسری جانب متاثرہ طالبہ کی والدہ نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس تعاون نہیں کر رہی، ہمیں انصاف دلایا جائے۔


 

آئی ایم ایف نے پاکستان کو 2 ارب 77 کروڑ ڈالر فراہم کر دیے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کو 2 ارب 77 کروڑ ڈالر مل گئے۔آئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق آج تاریخی دن ہے اور رکن ممالک نے 650 ارب ڈالر وصول کر لیے ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس رقم کی منتقلی سے عالمی معیشت میں اعتماد اور استحکام آئے گا اور عالمی معیشت دوبارہ ابھرے گی۔نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق اعلامیے کے مطابق رکن ممالک اِس رقم کو غیر مشروط طور پر استعمال کر سکتے ہیں تاہم قرض لینے والے ممالک پر منحصر ہے وہ اس رقم کو کس طرح استعمال کریں گے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رکن ممالک کو منتقل کی گئی رقم زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے یا قرض ادائیگی کیلئے استعمال کی جاسکتی ہے۔یہ رقم آئی ایم ایف نے کورونا سے نمٹنے کیلئے رکن ممالک کو جاری کی ہے جس کی منظوری آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے دی تھی۔ذرائع آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کو2 ارب 77 کروڑ ڈالرز منتقل کردیےگئے ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق اس رقم کی منتقلی سے پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند سطح تک پہنچ جائیں گے۔وزارت خزانہ ذرائع نے بتایاکہ اِس قرض کے ساتھ کوئی شرط نہیں رکھی گئی اور شرح سود بھی انتہائی کم ہے، ابھی اس کی واپسی کے وقت کا تعین بھی نہیں کیا گیا جبکہ یہ قرض آئی ایم ایف کی طرف سے دیے پروگرام کا حصہ بھی نہیں۔


 

ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز کا سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دینے اور ملک گیر عدالتی بائیکاٹ کا اعلان

کراچی(این این آئی) آل پاکستان لائرز کنونشن میں پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ، سندھ ہائیکورٹ سمیت ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز نے سینئرزججز کو نظر انداز کرکے جونیئر جج کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کیخلاف 9 ستمبر کو سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دینے اور ملک گیر عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔دھرنا جوڈیشل کونسل کے اجلاس کے موقع پر دیا جائے گا۔
سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے تحت شہدائے کوئٹہ ہال میں آل پاکستان وکلا کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔ وکلا کنونشن میں پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، سندھ بار کونسل، سندھ ہائیکورٹ بار ایسوی ایشن، کراچی بار ایسوسی ایشن اور ڈسٹرکٹ ملیر بار ایسوسی ایشن سمیت ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز کے نمائندے اور سینئر وکلا کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ آل پاکستان وکلا کنونشن سے خطاب میں وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل خوشدل خان خٹک نے 9 ستمبر کو جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے موقع ہڑتال اور سپریم کورٹ کے باہر دھرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس محمد علی مظہر کی تقرری میں اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور جونیئر ججز کی تعیناتی آئین کے بھی خلاف ہے۔ پسند اور نا پسند کی بنیاد پر تقرری ناقابل قبول ہے جبکہ ایڈ ہاک تقرری کے بجائے مستقل تعیناتی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس عائشہ ملک بھی جونیئر جج ہیں اور ان کی سپریم کورٹ میں تعیناتی قابل قبول نہیں۔ ہم اصولوں پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے اور بیرسٹر فروغ اے نسیم کی تمام سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔ سابق وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل امجد شاہ نے خطاب میں کہا کہ وکلا نے ججز بحالی اور آئین کی بالادستی کے لئے جدوجہد کی اور کچھ لوگوں نے مشرف کے یاروں کا ساتھ دیا۔ ہم وکلا تحریک کے دوران کہتے تھے جو مشرف کا یار ہے غدار ہے غدار ہے۔
جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان کو استعفیٰ دے دینا چاہیئے۔ رکن جوڈیشل کمیشن اختر حسین نے کہا کہ 16 ہزار ملازمین کو ایک فیصلے سے برطرف کردیا گیا۔ ہم نے عدلیہ کو آزاد کرانے کی جدو جہد کی اور ہم سینیارٹی کے اصول کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں کریں گے جبکہ بار ایسو سی ایشنز متحد ہیں اور جدو جہد تیز کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف زبانی بات نہیں کررہے اور ہم نے رولز میں ترمیم کیلئے تحریری سفارشات بھی دی ہیں جبکہ تقسیم کرنے کی کوشش بھی ناکام ہوگی۔ صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عبدا لطیف آفریدی نے 9 ستمبر کو جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے موقع پر ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 9 ستمبر کو سپریم کورٹ بند کردیں گے اور جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے موقع پر احتجاج کیا جائے گا جبکہ کے پی میں احتجاج اور دھرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ میں کم از کم خواتین ججز کو تعینات کیا جائے مگر سینیارٹی کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ دھرنا بھی ہوگا اور مرنا بھی ہوگا۔ 9ستمبر کو ملک بھر کی عدالتوں میں ہڑتال ہوگی۔ انہوں نے وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ اے نسیم پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر قانون کی صلاحیتیں اور ڈگری بھی مشکوک ہے اور سندھ بار کونسل ان کی ڈگری کی جانچ پڑتال کرے۔ سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن محمد یاسین آزاد کا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 15سال کی اسٹیڈنگ رکھنے والے کسی بھی وکیل کو جج بنایا جا سکتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہماری عدلیہ آزاد ہے لیکن میں اس بات کو نہیں مانتا۔ کسی نے ہمارے چیف جسٹس سے پوچھا کہ امریکہ نے کہا ہے کہ ہماری عدلیہ آزاد نہیں ہے جس پر چیف جسٹس نے منہ پر انگلی رکھ لی جبکہ ہماری پارلیمنٹ نے چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حق میں ووٹ دیا۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ایڈہاک جج بنایا جا سکتا ہے کہ نہیں اور یہ ایک جونئیر جج کو سپریم کورٹ میں تعینات کیا جا سکتا ہے کہ نہیں؟ یہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے ساتھ زیادتی ہے۔ اگر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو سپریم کورٹ لے کر جانا ہے تو 17 اگست کو خالی ہونے والی جگہ پر مستقل جج کے طور پر لے جائیں۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے زیادتی کریں گے تو وکلا اپنی آواز بلند کرے گے۔ انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن ججز کی تعیناتی کا طریقہ کار طے کرے۔ میرٹ کی بات کرتے ہیں تو میرٹ پر آئیں۔ سنیارٹی کے حساب سے تعیناتیاں کی جائیں۔ اگر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اہل نہیں تھے تو ساڑھے 4 سال سے انہیں چیف جسٹس کیوں بنایا ہوا ہے؟ وکلا اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ محمد یاسین آزاد ایڈووکیٹ نے کہا کہ آج ملک کی بدقسمتی دیکھیں سپریم کورٹ ہائیکورٹ کے ججز میں گروپنگ ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ گروپنگ ختم کرو عوام کو انصاف فراہم کرو۔ اگر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے ساتھ نہ انصافی ہوتی ہے تو وہ انصاف لینے کہاں جائیں گے۔ سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن و وکلا رہنما علی احمد کرد نے کہا کہ یہ کنونشن خطرناک لوگوں کی نشست ہے اور جونیئر جج کی سپریم کورٹ میں تعیناتی سے باز رہیں۔ ہم نے 2 سال تک وکلا تحریک چلائی۔ ہم عدلیہ کو آج بھی مقدس سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکلا کو چھیڑنا مناسب نہیں ہوگا۔ ہمارے پاس کھونے اور پچھتانے کیلئے کچھ نہیں اور آئین کی بالادستی کیلئے کسی نے آواز اٹھائی تو وہ صرف کالا کوٹ کالی ٹائی ہے جبکہ صرف جسٹس احمد علی شیخ یا جسٹس عائشہ ملک کی بات نہیں انصاف کی بات ہے۔ وکلا رہنما حامد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں جب بھی سینیارٹی کو نظر انداز کیا گیا اس کا نتیجہ برا نکلا اورسینیارٹی کے اصول کی خلاف ورزی پر ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ سے بھی جونیئر ججوں کو تعینات کیا گیا۔ پہلے نظریہ ضرورت ہوتا تھا۔ اب نیا فارمولا آیا ہے 2،2سال تک کیس ہی نہیں لگایا جاتا۔ نظام کو درست کرنا ہے تو اصولوں پر عمل کرنا ہوگا اور سپریم کورٹ میں صوبوں کا کوٹہ مقرر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ سے 4 اور لاہور سے 6 ججز سے زیادہ نہ ہوں اور وفاقی کورٹ میں تمام صوبوں کی نمائندگی ضروری ہے جبکہ جسٹس احمد علی شیخ کی ایڈہاک تقرری میں خالد جاوید کا مشروط ووٹ تھا۔ اکثریتی فیصلہ نہ ہونے کے باجود نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا۔ جسٹس احمد علی شیخ نے اسٹینڈ لیا ہم ان کے ساتھ ہیں۔ سابق وائس چیئرمین سندھ بار کونسل حیدر امام رضوی نے کہا کہ بہت افسوس ہوا کہ پارلیمانی کمیٹی نے سندھ ہائیکورٹ کے جونئیر جج تعیناتی کی منظور دی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے لیگل ایڈوائزر فاروق ایچ نائیک نے پارلیمانی کمیٹی میں جونیئر جج کی ایلیویشن کی حمایت کی ہے۔ صدر سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن بیرسٹر صلاح الدین احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہ ہمیں کوئی پلاٹ نہیں چاہئے۔ ہم صرف عزت کے طلبگار ہیں اور عدلیہ جو اصول دوسروں پر لاگو کرتی ہے وہ خود پر کیوں نہیں؟ وقت آگیا ہے کہ اپنے صوابدیدی اختیار کو کم کریں۔ انہوں نے کہا کہ گجر نالہ میں ہزاروں گھر گرادیئے مگر یہ قانون معروف تعمیراتی کمپنی پر نہیں لگتا۔وہی سپریم کورٹ جرمانے کی رقم لے کر الاٹمنٹ کو جائز قرار دے دیتی ہے جبکہ جوڈیشل ایکٹوزم اور تقرری کے اختیارات کم کرنے کا وقت آگیا ہے۔ صدر کراچی بار ایسوسی ایشن نعیم قریشی ایڈووکیٹ نے نے کہا کہ ہم قانون کی بالاستی اور آئین کی پاسداری کی بات کرتے ہیں۔ آج ججز کی تنخواہ 15 لاکھ روپے ہے۔ وہ ریلیف کیا دے رہے ہیں یہ سب کو پتہ ہے۔ ہم نے 2007 کی تحریک کے بعد بہت کچھ دیکھا ہے۔ سپریم کورٹ خود انصاف فراہم نہ کرے تو یہ کون سا انصاف ہے جبکہ وکلا کو تقسیم ہونے نہیں دیں گے اور وکلا آج بھی متحد ہیں۔جنرل سیکرٹری سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن بیرسٹر عمر سومرو نے خطاب میں کہا کہ یہاں سب کو بلانے کا مقصد عدلیہ کا تحفظ ہے اور آئین کے مطابق ایڈہاک جج اس صورت میں تعینات کیا جا سکتا ہے جب اشد ضرورت ہو۔ ہمارے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو کہا جارہا ہے کہ ایڈہاک جج کے طور پر سپریم کورٹ آئیں اور ایک جونیئر جج محمد علی مظہر کو بطور مستقل جج تعینات کیا گیاہے۔ جوڈیشل کمیشن کا یہ فیصلہ توہین آمیز ہے جبکہ جوڈیشل کمیشن کس طرح چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی توہین کرسکتا ہے۔ وکلا کنونشن نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی ایڈہاک جج سپریم کورٹ تعیناتی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے قرار داد منظور کی اور اعلان کیا کہ 9 ستمبر کو اس اقدام کیخلاف بھرپور احتجاج اور دھرنا دیا جائیگا۔ وکلا کنونشن نے 9 ستمبر کو ملک گیر عدالتی بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ وکلا غیر قانونی اقدام کی ہرگز حمایت نہیں کریں گے۔


 

آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم کیسا رہے گا ، محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کر دی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) پیر کے روز ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کی پیشگوئی کی گئی تھی ۔تاہم بالائی خیبر پختونخوا ، شمال مشرقی پنجاب،گلگت بلتستان اورکشمیر میں چند مقامات پر تیزہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق منگل کے روز ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا ۔تاہم بالائی خیبر پختو نخوا، شمال مشرقی پنجاب،گلگت بلتستان ،کشمیر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں چند مقامات پر تیزہواؤں اور گرج چمک کےساتھ بارش کا امکان ہے گذشتہ 24 گھنٹے کا موسم ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا۔ تاہم بالائی و وسطی پنجاب میں بعض مقامات پر بارش ہوئی۔پنجاب : نارووال اوراسلام آباد(ائیر پورٹ) میں 01 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔آج ر یکارڈ کیے گئے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت: دادو 44 اور روہڑی میں 43 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔


 

ڈی ایس پی پرانی انارکلی لاہور ثقلین شاہ جاں بحق


‏ٹوبہ ٹیک سنگھ تیز رفتار کار ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا گئی
‏حادثہ میں ڈی ایس پی پرانی انارکلی لاہور ثقلین شاہ جاں بحق، اہلیہ اور 3 بچے زخمی، ریسکیو ذرائع
حادثہ جھنگ کے تھانہ سیٹلائیٹ ٹاون کے علاقہ پل اصحابہ پر پیش آیا، ریسکیو ذرائع
ڈی ایس پی ثقلین شاہ بھکر سے ٹوبہ ٹیک سنگھ آ رہے تھے، ریسکیو ذرائع


 

Sunday, 15 August 2021

مسافروں کے لیے بڑی خبر، اہم اعلان

کراچی: قومی ایئرلائن(پی آئی اے) نے متحدہ عرب امارات کے لیے پروازوں کی تعداد میں اضافے کا اعلان کردیا۔ 

تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات(یو اے ای) واپسی کے منتظر مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جس کے سبب پروازیں کی تعداد بھی بڑھائی جارہی ہے۔ 

پی آئی اے نے امارات کے شہر العین کے لیے پروازوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ 

ترجمان قومی ایئرلائن کا کہنا ہے کہ پی آئی اے زیادہ سے زیادہ مسافروں کو لے جانے کے لیے روز پرواز آپریٹ کرے گی۔ لاہور، اسلام آباد اور پشاور سے العین کے لیے پروازیں آپریٹ کی جائیں گی۔ 

خیال رہے کہ یو اے ای جان کے خواہش مند مسافروں کے لیے ملک کے 7بڑے ایئرپورٹس پر ریپڈ پی سی آرٹیسٹ کے لیے لیبارٹریز کو جگہ فراہم کردی گئیں۔ 

علامہ اقبال انٹرنیشنل، ملتان اور فیصل آباد ایئرپورٹ پر بھی پی سی آرٹیسٹ کی سہولت ہوگی جبکہ کراچی، پشاور اور اسلام آباد ایئرپورٹ پر پہلے سے مسافروں کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔


 

اسلحہ لائسنسوں پر پابندی ختم، حکومت کا اہم ترین فیصلہ

اسلحہ لائسنس بنوانے والے حضرات کے لئے خوشخبری،
وفاقی کابینہ نے ممنوعہ اور غیر ممنوعہ اسلحہ لائسنسوں پر پابندی ختم کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزارت داخلہ کی سمری میں کہا گیا ہے کہ ممنوعہ بور اسلحہ ،لائسنسوں کا اجرا وزیر داخلہ کی منظوری سے کیا جائے گا جبکہ غیر ممنوعہ بور کا لائسنس سیکریٹری داخلہ جاری کرسکیں گے۔ دوسری جانب وفاقی کابینہ نے امریکا میں کرپشن جرائم میں ملوث ملزم مجاہد پرویز کی پاکستان سے امریکا کے حوالے کرنے کی منظوری دیدی۔ وزارت داخلہ کی انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے ایف آئی اے کے قوانین میں نئی شقیں شامل کرنے کی بھی منظوری دیدی گئی۔چیک ری پبلک کے ساتھ دوہری شہریت رکھنے کے معاہدہ کی بھی منظوری دیدی گئی۔


 

Friday, 13 August 2021

ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ نے ڈی پی او شیخوپورہ احسن سیف اللہ کے ہمراہ شہر کی مختلف امام بارگاہوں کا دورہ کیا



شیخوپورہ میں ماہ محرم الحرام کا آغاز ہوتے ہی امام بارگاہوں میں مجلس عزاء برپا کی جا رہی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے امام بارگاہوں کے اطراف سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ نے ڈی پی او شیخوپورہ احسن سیف اللہ کے ہمراہ شہر کی مختلف امام بارگاہوں کا دورہ کیا اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ کا کہنا تھا کہ ضلع بھر میں 350 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں اور مانیٹرنگ کے لیے ڈپٹی کمشنر آفس میں کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ڈی پی او احسن سیف اللہ نے بتایا کہ متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز کو ماہ محرم الحرام کے دوران فول پروف سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہیں۔ ڈی پی او احسن سیف اللہ کا کہنا تھا کہ یکم محرم سے یوم عاشور تک 669 مجالس کے پروگرام اور 227 جلوس ضلع بھر میں منعقد ہونگے اور 2 ہزار سے زائد پولیس اہلکار و افسران اپنی ڈیوٹی سر انجام دیں گے۔ ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ نے کہا کہ ماہ محرم الحرام کے دوران بین المذاہب ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ محرم کے دوران کسی کو امن و امان کی فضا کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نقص امن پیدا کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے ضلع میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے شہریوں سے تعاون کی اپیل کی ہے۔

 

Thursday, 12 August 2021

سینئراداکارہ اور ماہر تعلیم دردانہ بٹ انتقال کر گئیں،


سینئراداکارہ اور ماہر تعلیم دردانہ بٹ انتقال کر گئیں،
پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ دردانہ بٹ کورونا کے باعث انتقال کرگئیں۔اداکار خالد ملک نے دردانہ بٹ کے انتقال کی تصدیق اپنے ایک سوشل میڈیا پیغام میں کی۔
انہوں نے لکھا کہ ’دردانہ آپا دنیا چھوڑ کر خالقِ حقیقی سے جا ملی ہیں، عقلمند، مزاحیہ، بصیرت والی داردانہ بٹ ایک خاص روح تھیں، جو اب اس دنیا میں نہیں رہی ہیں۔
‘اداکار کی پوسٹ پر صارفین کی بڑی تعداد دردانہ بٹ کیلئے دعائے مغفرت کررہی ہے۔اس سے قبل خالد ملک نے ہی ان کی علالت اور وینٹیلیٹر پر منتقل کیے جانے کے حوالے سے بتایا تھا۔


 

میں اپنے بیٹے جنید صفدر کے نکاح کی تقریب میں شرکت نہیں کرسکوں گی،میں اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑتی ہوں: مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے بیٹے جنید صفدر کی شادی کا کارڈ سوشل میڈیا پر شیئر کر نواز نے کارڈ ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ میرے بیٹے جنید کا سیف الرحمان کی بیٹی عائشہ سے 22 اگست کونکاح ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ میرا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ہونے کے باعث بیٹے کے نکاح میں شرکت نہیں کرسکوں گی۔ انہوں نے کہاکہ جب جیل میں تھی تب میری والدہ کا انتقال ہوا، اب اپنے بیٹے کی خوشیوں میں شریک نہیں ہوسکوں گی۔مریم نواز نے اعلان کیا کہ بیٹے کے نکاح میں شرکت کیلئے حکومت کوبیرون ملک جانے کی درخواست نہیں کروں گی اور میں اپنا معاملہ اللہ پرچھوڑتی ہوں۔


 

Monday, 2 August 2021

مکمل لاک ڈاؤن لگاکر معیشت کو تباہ نہیں کرسکتے “

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے بھی مکمل لاک ڈاؤن کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن لگاتے ہیں تو ہمیں دوسری طرف بھی دیکھنا ہے،کیا لاک ڈاؤن سے ہم اپنی معیشت کو بچالیں گے؟

تفصیلات کے مطابق آپ کا وزیراعظم ایک بارپھر آپ کے ساتھ کے لائیو سیشن میں وزیراعظم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسوقت پاکستان میں کرونا کی چوتھی لہر آئی ہے، بھارتی ویرینٹ ڈیلٹا سب سے زیادہ خطرناک ہے، یہ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے مکمل لاک ڈاؤن کی ایک بار پھر مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں تباہی دیکھی ، ان کی حکومت نے بغیر سوچے لاک ڈاؤن کیا، بھارتی حکومت نے اوپر کی کلاس کا سوچا اور لاک ڈاؤن لگادیا،محنت کش لوگوں کا نہیں سوچا،صرف ایلیٹ کی جانب دیکھا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سندھ حکومت کی کوشش تھی کہ لاک ڈاؤن کردیں، مانتا ہوں کہ لاک ڈاؤن بالکل ٹھیک فیصلہ ہے اس کا پھیلاؤ کم ہوجائےگا، مگر لاک ڈاؤن لگاتے ہیں تو ہمیں دوسری طرف بھی دیکھنا ہے، دیہاڑی دار طبقہ ، ٹیکسی والے چھوٹے مزدور کیسے گزاراکرینگے؟ بچے گھر میں بھوکیں ہونگے تو کیسے کہیں گے کہ باہر نہ جائیں، جب تک اس کا جواب آپ کے پاس نہیں تو کبھی لاک ڈاؤن نہ لگائیں، سندھ حکومت لاک ڈاؤن لگاتی ہے تو ذہن میں رکھیں لوگوں کو بھوکا کردینگے۔

لائیو سیشن میں وزیراعظم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مشکل فیصلے وقت پر کئے،لوگوں کو بچایا،معیشت کو بچایا اس وقت بھی ہم نے کرونا کا پھیلاؤ روکنا اور معیشت کو ساتھ لیکر چلنا ہے، ہماری معیشت مشکل وقت سے نکلی اور اللہ کےکرم سےاوپر جارہی ہے، ہمیں کسی صورت لاک ڈاؤن لگاکر معیشت کو تباہ نہیں کرنا ،حکمت عملی کے تحت ہمیں کورونا کا پھیلاؤ روکنا ہوگا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اب تک ملک بھر میں تین کروڑ افراد کو کرونا ویکسین لگ چکی، حکومت پوری کوشش کررہی ہے کہ ویکسینیشن میں کوئی کمی نہ آئے، اسکولوں سے متعلق میرا نظریہ یہ ہے کہ جب تک اسکولز کے اساتذہ عملے کو ویکسین نہ لگے تو نہیں کھولنےچاہئیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے مشکل فیصلے کرکے لوگوں کو کورونا سے بھی بچایا، ورلڈاکنامک فورم کے مطابق پاکستان تیسرا ملک ہے جس نے بہتر طریقےسے کوروناکاسامناکیا، وبا پر قابو پانے کے لئے این سی اوسی کےذریعے سائیٹیفک فیصلے کئےگئے، قوم نے بہت تعاون کیا اس پر شکریہ اداکرناچاہتاہوں، سوائے پاکستان کے پوری دنیا میں مساجد بند ہوئیں،ایس اوپیز پر عملدرآمد کرانے میں علما کا بھی شکریہ اداکرتاہوں


 

Saturday, 31 July 2021

کورونا سے بچاؤ کیلئے ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد ہونا چاہیے ، چوہدری پرویزالٰہی


کورونا سے بچاؤ کیلئے ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد ہونا چاہیے ، چوہدری پرویزالٰہی 

تفصیلات کے مطابق اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالٰہی نے صوبائی وزیر معدنیات حافظ عمار یاسر، چیئرمین ایجوکیشن فاؤنڈیشن پنجاب سردار آفتاب اکبر ایم پی اے اور چیئرمین ملک عبدالمنان سے ملاقات کی جس میں انہوں نے کہا کہ کورونا کی چوتھی لہر بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ 

اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالٰہی نے کہا کہ کورونا کی نئی لہر لمحہ فکریہ ہے ، ایسے میں تعلیمی اداروں کو کھول کر عوام کو اس میں مبتلا نہ کریں ، کورونا کے باعث پوری دنیا سمیت پاکستان کی معیشت تباہ حال ہے ، ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے سب کو مل کر چلنا ہو گا۔ 

ذرائع کے مطابق ملاقات میں حلقہ این اے 65 اور پی 23 اور پی 24 کے مسائل کے حل کے حوالے سے لائحہ عمل مرتب کیا گیا۔ 

ملاقات میں سردار آفتاب اکبر نے کہا کہ حلقے کی عوام کو درپیش مسائل کو حل کیا جائے گا ، چوہدری سالک حسین ایم این اے اور حافظ عمار یاسر کے ساتھ مل کر عوام کی خدمت کرتے رہیں گے۔


 

Friday, 30 July 2021

ہائی پروفائل کیسز میں میڈیا تفتیش کے عمل پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟


ہائی پروفائل کیسز میں میڈیا تفتیش کے عمل پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟ 

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پوش علاقے میں سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم قتل کا کیس اس وقت پاکستان میں میڈیا کے لیے سب سے بڑی خبر ہے اور آئے روز اس کیس کے حوالے سے مختلف ذرائع سے خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ 

انہی خبروں کے پیش نظر بدھ کو اسلام آباد پولیس کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا جس میں میڈیا سے درخواست کی گئی کہ غیر تصدیق شدہ خبروں کی نشر و اشاعت سے گریز کیا جائے۔ 

بیان میں کہا گیا کہ 'کچھ ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا ٹولز نور مقدم کیس کے حوالے سے غیر مصدقہ خبریں پھیلا رہے ہیں، جن میں سچائی نہیں اور ایسی خبروں سے تفتیش کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔' 

شکیل انجم کہتے ہیں کہ آگے بڑھ جانے کی ریس کے باعث صحافت کا معیارگر چکا ہے۔ (فوٹو: عرب نیوز)

نور مقدم کیس کے حوالے سے نہ صرف پولیس بلکہ متاثرہ خاندان کے بھی تحفظات ہیں جس کا اظہار وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کیا ہے۔ 

بدھ کو قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس کے دوران انہوں نے کہا کہ 'میری ملاقات متاثرہ خاندان سے ہوئی ہے اور وہ اب تک کی تفتیش کے عمل سے مطمئن ہیں البتہ خاندان کی پرائیویسی متاثر ہونے کے حوالے سے انہیں تحفظات ہیں۔' 

'میڈیا رپورٹس کے ذریعے عوامی سطح پر ایک مخصوص تاثر بن جاتا ہے' 

سابق انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ افضل شگری نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کسی بھی زیر تفتیش کیس کے بارے میں جب میڈیا کے ذریعے تفصیلات سامنے آتی ہیں اس سے عام لوگوں کی رائے قائم ہونا شروع ہو جاتی ہے، لیکن اگر وہ معلومات درست نہ ہوں تو پھر نہ صرف پولیس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ تفتیشی افسر کو بھی جرح کے دوران دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔' 

انہوں نے بتایا کہ 'جب میڈیا رپورٹس کے بارے میں تفتیشی افسر سے جرح کے دوران عدالت میں پوچھا جاتا ہے تو اس وقت کہا جاتا ہے کہ حکام نے خبروں کی تردید کیوں نہیں کی، لیکن مسئلہ تو یہ ہے کہ اتنی خبریں آ رہی ہوتی ہیں اس دوران کتنی خبروں کی تردید کی جائے۔' 

سابق وزیر قانون اور سینیئر قانون دان خالد رانجھا کے خیال میں 'میڈیا رپورٹس سے تفتیش کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ موجود رہتا ہے خاص طور پر ان کیسز میں جہاں ملزمان کی تلاش کرنے کی ضرورت ہے، ان کیسز میں میڈیا رپورٹس ملزمان کو فائدہ پہنچا رہی ہوتی ہیں۔' 

خالد رانجھا نے موٹروے ریپ کیس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 'موٹر وے ریپ کیس میں سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر جو معلومات سامنے آرہی تھیں اس سے تفتیش میں کافی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا کیونکہ وہ ایک اندھا کیس تھا اور ملزمان کی تلاش کی جارہی تھی۔ اس لیے ایسی معلومات سامنے آرہی تھیں جس سے تفتیش کا بیڑا غرق ہورہا تھا۔' 

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 'ہمارے ہاں زیر تفتیش کیس پر رپورٹنگ کرنے کے حوالے سے کوئی قانونی روک تھام موجود ہی نہیں ہے اور جو قوانین موجود ہیں ان پر عمل نہیں کیا جاتا۔' 

'نور مقدم کیس کی رپورٹنگ انتہائی مایوس کن ہے' 

سابق آئی جی سندھ افضل شگری کے خیال میں ’پولیس کی ٹریننگ کی ضرورت ہے کہ میڈیا کو کیسے ڈیل کیا جائے (فوٹو اسلام آباد پولیس)

انگریزی اخبار دی نیوز کے ساتھ منسلک سینئیر کرائم رپورٹر شکیل انجم کہتے ہیں کہ ٹی وی چینلز آنے کے بعد سے ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی ریس کے باعث صحافت کا معیار گر چکا ہے۔ 

اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'نور مقدم کیس میں جو کرائم رپورٹنگ ہو رہی ہے وہ انتہائی مایوس کن ہے، تفتیش کے دوران جو معلومات میڈیا کے ذریعے سامنے آ رہی ہیں اس سے تفتیش کے کئی پہلووں کے دروازے ہی بند ہو جاتے ہیں، لیکن ہمیں اس حد تک مجبور کر دیا ہے کہ ہم بھی اس ریوڑ میں شامل ہوگئے ہیں جس کی کوئی سمت ہی نہیں ہے۔' 

انہوں نے مزید بتایا کہ 'بعض پولیس اہلکار جن کا تفتیش سے کوئی تعلق بھی نہیں ہوتا وہ خود کو باخبر ظاہر کرنے کے لیے صحافیوں سے ایسی گفتگو کرتے ہیں جو کہ بعد میں خبر بن جاتی ہے اور اس کا پراسیکیوشن پر انتہائی منفی اثر پڑتا ہے۔ جبکہ بعض اوقات پولیس افسران 'آف دی ریکارڈ' بات کرتے ہیں، اور آف دی ریکارڈ گفتگو کو صحافتی اصول کے مطابق خبر نہیں بنایا جاسکتا لیکن اب آف دی ریکارڈ گفتگو کو بھی خبر بنا دیا جاتا ہے اور اس سے اکثر ملزمان کو غیر دانستہ طور پر فائدہ پہنچتا ہے۔' 

سینئر صحافی اور جیو نیوز کے ڈائریکٹر نیوز رانا جواد کے مطابق 'اگر میڈیا ایسے کیسز کو زیادہ اجاگر نہ کرے اور جارحانہ رپورٹنگ نہ کرے تو غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہیں پھیلنے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن میڈیا کو اپنی ذمہ داری نبھانے کے ساتھ فیملی کی پرائیویسی کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا چاہیے۔' 

رانا جواد نے کہا کہ' فیملی پرائیویسی کو تحفظ دینا ان کا بنیادی حق ہے اور پوری دنیا میں اس حوالے سے قوانین موجود ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ایسے قوانین کی ضرورت ہے کہ متاثرین کی پرائیویسی کو یقینی بنایا جائے۔' 

انہوں نے کہا کہ 'صحافی پر خبر کے حوالے سے دباؤ ضرور ہوتا ہے لیکن یہ بھی ایک صحافی کی ذمہ داری ہے کہ اس دباؤ میں آ کر غلط اور حساس معلومات خبر نہ بنیں اور کوئی بھی اچھا ایڈیٹر کوئی ایسی خبر دینے کے لیے دباؤ نہیں ڈالتا جو مصدقہ نہ ہو۔' 

رانا جواد کے مطابق 'بدقسمتی سے پولیس اس حوالے سے تربیت یافتہ نہیں ہے اس لیے بھی خبروں کے اندر غیر ذمہ داری کا عنصر ظاہر ہوتا ہے۔' 

سابق آئی جی سندھ افضل شگری کے خیال میں 'پولیس کی ٹریننگ کی ضرورت ہے کہ میڈیا کو کیسے ڈیل کیا جائے، سوشل میڈیا پر تو کوئی کنٹرول نہیں، لیکن افواہیں خبریں نہ بنیں اس لیے بہتر ہوتا ہے کہ ایسے کیسز جن میں عوامی دلچسپی زیادہ ہو ، پر روزانہ کی بنیاد پر میڈیا بریفنگ دی جائے۔' 

انہوں نے کہا کہ 'اگر کچھ نیا سامنے نہیں بھی آتا تو پھر بھی روزانہ میڈیا کو ایسی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے جو حساس نہیں ہے تاکہ غلط اور غیر تصدیق شدہ خبریں نشر نہ ہوں اور سوشل میڈیا پر غلط خبروں کو بھی اسی ذریعے سے روکا جا سکتا ہے۔'


 

نور مقدم کیس: ملزم ذاکر جعفر اور مدعی شوکت مقدم کا عدالت میں آمنا سامنا


اسلام آباد میں سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر کے والدین اور گھریلو ملازمین کو 14 روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ 

منگل کو ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر اور والدہ عصمت آدم جی سمیت چار ملزمان کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ 

پیشی کے موقع پر مقتولہ کے والد شوکت مقدم بھی عدالت میں موجود تھے جو اپنے دوستوں کے ساتھ آئے اور وکلا سے قانونی ملزمان کی عدالت میں پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت میں ذاکر جعفر اور شوکت مقدم کا آمنا سامنا ہوا تو ہتھکڑیاں لگے ذاکر جعفر نے شوکت مقدم کو دیکھ کر سلام کیا جسے شوکت مقدم نے سنا اَن سنا کر دیا۔ 

منگل کو ہونے والی 2 منٹ کی اس عدالتی کارروائی میں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا کی گئی جس پر جج نے شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور سے استفسار کیا تو انہوں نے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے پر کوئی اعراض نہیں کیا۔ 

عدالت نے ملزمان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجتے ہوئے 10 اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔ ملزمان کے وکیل رضوان عباسی نے ذاکر جعفر اور ان کی اہلیہ کو مقدمے سے خارج کرنے کی استدعا کی تو جوڈیشل مجسٹریٹ نے کہا کہ ہم جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کا فیصلہ دے چکے ہیں آپ کی استدعا ریکارڈ کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ 

وکیل کی درخواست پر عدالت نے ملزم ذاکر جعفر اور ان کی اہلیہ عصمت آدم جی کی کمرہ عدالت میں ملاقات کروائی جس کے بعد پولیس چاروں ملزمان کو لے کر روانہ ہو گئی۔ 

پیشی کے موقع پر ذاکر جعفر اور شوکت مقدم کا کیا کہنا تھا؟ 

پیشی کے موقع پر ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر نے کہا کہ 'اگر میرا بیٹا قصور وار ہے تو اسے سزا ضرور ملنی چاہیے، میں عدالتی کارروائی کے بعد بھی مقتولہ کے والد شوکت مقدم اپنے دوستوں اور وکلا سے مشاورت کرتے نظر آئے۔ 

ملزم کے والد اور والدہ سے تفتیش میں اب تک کیا حاصل کیا گیا؟ 

پراسیکیوٹر ساجد چیمہ نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملزمان ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی سے تفتیش مکمل کر لی گئی ہے جس کی وجہ سے ملزمان کی مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست نہیں کی گئی۔ 

انہوں نے بتایا کہ 'دوران تفتیش پولیس نے ملزمان کے موبائل فون اور کال ڈیٹا حاصل کر لیا ہے اور مزید ان سے کوئی ریکوری نہیں ہو سکتی، کال ریکارڈ کے ڈیٹا کی ہی بنیاد پر تفتیش آگے بڑھے گی۔' 

دوسری جانب اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی ایک ٹویٹ میں بتایا گیا ہے کہ 'کسی بھی ملک میں امریکی شہری وہاں کے قانون کے تابع ہوتے ہیں۔ جب کسی ملک میں امریکی شہری گرفتار ہوتے ہیں تو سفارتخانہ ان کی صحت سے متعلق معلوم کرتا ہے اور وکلا کی فہرست دیتا ہے لیکن کسی قسم کی قانونی مشاورت یا عدالتی کارروائی میں حصہ نہیں لیتا۔' 

قبل ازیں مقامی ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں آئی تھیں کہ امریکی سفارتخانے کے حکام نے ملزم ظاہر جعفر سے پولیس کی تحویل میں ملاقات کی ہے۔ 

خیال رہے کہ 20 جولائی کو اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کے علاقے ایف سیون فور میں پاکستان کے سابق سفیر شوکت مقدم کی 28 سالہ بیٹی نور مقدم کو تیز دھار آلے سے گلا کاٹ کر قتل کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے اگلے روز پولیس نے ملزم ظاہر جعفر کو گرفتار کر لیا تھا۔ 

نور مقدم کے قتل پر سماجی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ 

بعد ازاں مقتولہ کے والد سابق سفیر شوکت علی مقدم نے واضح کیا تھا کہ وہ اس کیس میں کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ملزم کو سزا دلوانا ہی ان کا واحد مقصد ہے۔ 

24 جولائی کو اسلام آباد پولیس نے ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر، والدہ عصمت آدم جی اور دو ملازمین افتخار اور جمیل کو شواہد چھپانے اور قاتل کی جرم میں اعانت پر گرفتار کیا تھا۔ 

ملزم ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر کنسٹرکشن کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور ایک بڑی کمپنی کے مالک ہیں۔ ملزم بھی کمپنی میں اہم عہدے پر فائز تھا۔
 

‏زمیں پھٹی نا ہی آسماں گرا، قتل ہونے والی ننھی ماہم سے زیادتی کی تصدیق، گردن کی ہڈی بھی توڑ ڈالی۔


‏زمیں پھٹی نا ہی آسماں گرا، قتل ہونے والی ننھی ماہم سے زیادتی کی تصدیق، گردن کی ہڈی بھی توڑ ڈالی۔
کراچی:زمیں پھٹی نا ہی آسماں گرا 6 سالہ ماہم درندگی کا شکار ہوگئی ، پوسٹ مارٹم میں ماہم سے زیادتی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قتل کے دوران بچی کی گردن کی ہڈی بھی توڑ دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے کورنگی سے ملنے والی 6 سالہ ماہم کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا ، جس میں لیڈی ایم ایل او ڈاکٹر ثمیہ نے بچی ماہم سے زیادتی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بچی سے پہلے زیادتی کی گئی اس کےبعد قتل کیا گیا۔
ایم ایل او نے ابتدائی رپورٹ اور ویڈیو بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ماہم کوناک اور منہ بند کرکے قتل کیا گیا اور قتل کےدوران ہی زور لگانے سےگردن کی ہڈی ٹوٹی۔
لیڈی ایم ایل او کا کہنا تھا کہ زیادتی کے دوران اسے بدترین تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا، ڈی این اے سمیت دیگر تمام نمونےحاصل کرلیے ہیں، رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگا کہ کتنے افراد نے زیادتی کی، ہم نے اپنی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی ہے۔.
دوسری جانب پولیس کے تفتیشی افسر نے ماہم سے زیادتی کے بعد قتل کیس میں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ قتل اور زیادتی کرنے والا کوئی قریبی تھا اور بچی شناخت نہ کرلے اسے لیے قتل کیا گیا۔
تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ڈی این اے آنے کے بعد مزید صورتحال واضح ہوگی، واقع میں ملوث عناصر کو گرفتارکرلیں گے۔
گورنرسندھ نے کورنگی سے6 سالہ بچی کی تشددزدہ لاش ملنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے رپورٹ طلب کرلی اور ملوث افراد کو جلد گرفتار،قرار واقعی سزا دلانے کا حکم دیتے ہوئے کہا مہذب معاشرے میں ایسے واقعات نا قابل برداشت ہیں۔


 

کراچی میں لاک ڈاؤن نافذ ہوگا یا نہیں؟ فیصلہ آج ہوگا


کراچی میں لاک ڈاؤن نافذ ہوگا یا نہیں؟ فیصلہ آج ہوگا
کراچی : شہر قائد میں لاک ڈاؤن لگانے یا نہ لگانے کا فیصلہ آج ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت بڑی بیٹھک میں شہر کے تعلیمی اداروں اور تجارتی مراکز کی بندش پر مشاورت ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت کورونا ٹاسک فورس کا اجلاس آج ہوگا، اجلاس میں صوبائی وزراء اور طبی ماہرین شرکت کریں گے۔
اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کو بھی مدعو کیا گیا ہے، محکمہ صحت کی جانب سے ٹاسک فورس کو دو ہفتے کیلئے لاک ڈاؤن لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ عالمی وبا کورونا کے ڈیلٹا ویریئنٹ کی بڑھتی ہوئی شدت پر قابو پانے کیلئیے تعلیمی اداروں کو بھی2ہفتے کیلئے بند کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔


 

“پہاڑوں کا بیٹا پہاڑوں کی آغوش میں ہی دفن”


“پہاڑوں کا بیٹا پہاڑوں کی آغوش میں ہی دفن”
رواں سال فروری میں کے ٹو کی چوٹی سر کرنے کی مہم میں شہید ہونے والے محمد علی سدپارہ کو پہاڑوں کی آغوش میں دفن کر دیا گیا ہے۔
محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے کیمپ فور سے اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ آٹھ ہزار چھ سو گیارہ میٹر کی بلندی سے والد کا جسد خاکی کو نیچے اتارنا مشکل عمل تھا، بوٹل نیک سے ارجنٹینا کے کوہ پیما کی مدد سے ہم ان کے جسد خاکی کو کیمپ فور میں لائے اور اہل خانہ سے مشاورت کے بعد وہیں تدفین کر دی۔
ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ میں نے قوم کی طرف سے والد کی قبر پر فاتحہ خوانی اور تلاوت بھی کی، قبر کی جگہ پاکستان کا جھنڈا بطور نشانی لگا دیا ہے تاکہ آئندہ اس مقام کو باقاعدہ شناخت مل سکے۔
یاد رہے کہ رواں برس فروری میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کی تلاش کے لیے کئی روز تک آپریشن جاری رہا تھا تاہم لاشیں نہ ملنے کے بعد ان کے صاحبزادے نے والد کے انتقال کا اعلان کر دیا تھا۔
محمد علی سدپارہ کے انتقال کے اعلان کو کئی ماہ گزرنے کے بعد چند روز قبل ان کے صاحبزادے ساجد علی سدپارہ نے والد کی موت کی وجوہات جاننے اور والد کے جسد خاکی کی تلاش کے لیے کے ٹو پر جانے کا اعلان کیا تھا۔
انہیں کامیابی اس وقت ملی جب کے ٹو پہاڑ کے ’بوٹل نیک‘ کے قریب سے تین لاشیں ملیں، محمد علی سد پارہ کی لاش کے ٹو کے ’بوٹل نیک‘ سے 300 میٹر نیچے جبکہ پہلی لاش ’بوٹل نیک‘ سے 400 میٹر نیچے ملی ہے (کے ٹو کے کیمپ فور سے اوپر ڈیتھ زون میں 8200-8400 میٹر کے درمیان ایک راک اینڈ آئس گلی موجود ہے، کیونکہ اس کی شکل بوتل کی گردن کی طرح دکھتی ہے لہذا اسے بوٹل نیک کہتے ہیں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں سے کےٹو سر کرنے کی کوشش کرنے والے کوہ پیماؤں کو ہر حال میں گزرنا پڑتا ہے، اس کا کوئی متبادل راستہ موجود نہیں ہے اور یہ کے ٹو کا مشکل ترین حصہ ہے۔


 

جب مشہور شاعر ناصر کاظمی اپنے ایک دوست کی وجہ سے الجھن میں گرفتار ہوئے!


جب مشہور شاعر ناصر کاظمی اپنے ایک دوست کی وجہ سے الجھن میں گرفتار ہوئے!
ناصر کاظمی کی ”برگِ نے“ شائع ہونے لگی تو ناصر نے شاکر صاحب سے گزارش کی کہ آپ میری کتاب کا سرورق بنائیے۔
شاکر صاحب نے سرورق بنایا۔ ناصر نے بہت پسند کیا۔ ہم سب نے پسند کیا مگر جب حنیف رامے تک یہ خبر پہنچی تو وہ مچل گیا کہ ناصر کی کتاب کا سرورق بنانے کا حق اگر کسی کو ہے تو مجھے ہے۔اسے سمجھایا گیا، ناصر نے بھی بہت سمجھایا کہ وہ تو میرے کہنے پر شاکر صاحب نے بنایا تھا اور میں تو ناشر کو (کارواں پبلشرز) یہ سرورق حوالے کر چکا ہوں، مگر حنیف اپنی ہٹ پر قائم رہا۔ اس نے کارواں کے حمید صاحب کے پاس جا کر ناصر کے ساتھ اپنے حقِ رفاقت کو جتایا اور انہیں قائل کرنے میں کام یاب رہا۔ سو ”برگِ نے“ حنیف رامے کے سر ورق کے ساتھ شائع ہوئی۔
لیجیے یہ ایک اور پیچ پڑ گیا۔ شاکر صاحب ناصر سے خفا خفا پھرنے لگے۔ میں نے ناصر کی طرف سے بہت صفائیاں پیش کیں، مگر شاکر صاحب کے دل میں جو ایک گرہ پڑ گئی تھی وہ نہیں گئی، بس دب گئی۔
اصل میں یہ جو حنیف رامے کا بات بات میں مچل جانا تھا اس نے میرے اور ناصر کے لیے بہت الجھنیں پیدا کیں۔ شیخ صاحب کے وہ مسائل نہیں تھے جو ہمارے تھے۔ انہیں تو اس حلقۂ دوستاں سے غرض ہی نہیں تھی جس میں ہم اٹھتے بیٹھتے چلے آئے تھے اور اس اٹھنے بیٹھنے میں ہم نے محبت کے رشتے قائم کیے تھے مگر شیخ صاحب اپنے ملنے والے سے پوری وفا مانگتے تھے اور پوری وفا سے نوازتے تھے۔ وفا بلا شرکت غیرے۔ بس اس ایک وجہ سے ان کا حلقۂ ارادت پھیلنے سے پہلے ہی سکڑ گیا۔
ہمارے دوستوں میں سب سے سرکش مخلوق احمد مشتاق کو جانیے۔ اس نے تو پٹھے پر ہاتھ ہی نہیں رکھنے دیا۔ پہلے ہی مرحلہ میں شیخ صاحب کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ مظفر کو اس انکارِ اطاعت سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ شیخ صاحب کی خطائیں شیخ صاحب کے ساتھ، مظفر کی خطائیں مظفر کے ساتھ۔ احمد مشتاق کے یہاں یاروں کی کسی خطا کے لیے معافی کا خانہ نہیں تھا۔ مگر صحیح تولتا تھا۔ ترازو اس کے ہاتھ میں تھی۔ سو ہر یار کی خطاؤں کا پلہ ہمیشہ بھاری ہی دیکھا گیا۔ ادھر شیخ صاحب کی ترازو میں یاروں کی خوبیوں کا پلّہ ہمیشہ بھاری رہا۔ اور حنیف کی مصوّری کو انہوں نے کیا خوب تولا کہ پلّہ اس کا گراں ہوتا ہی چلا گیا۔
ناصر دوستوں کے معاملہ میں مرنجاں مرنج۔ احمد مشتاق سے بھی آخر دوستی رکھنی تھی اور شیخ صاحب اور حنیف رامے کی بھی دل شکنی منظور نہیں تھی۔ اور ناصر کی رضا میں میری رضا، مگر شاکر صاحب بھی تو دوست تھے بلکہ دوستوں سے بڑھ کر دوست۔ اور ان کی مصوری کی خوشبو تو اب پھیلتی ہی چلی جا رہی تھی۔
جب ناصر کی ”برگِ نے“ کے سر ورق کا قصّہ نیا پرانا ہو گیا اور شاکر صاحب کی طبیعت بھی بحال ہو گئی تو ایک خواہش نے میرے اندر سر اٹھایا۔ میرا مجموعہ ”شہرِ افسوس“ اشاعت کا منتظر تھا۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس کا سر ورق شاکر صاحب سے بنوایا جائے۔ شاکر صاحب نے فوراً ہی ہامی بھر لی، مگر فوراً ہی بیمار بھی پڑ گئے اور ایسے بیمار پڑے کہ طبیعت سنبھلنے ہی میں نہیں آرہی تھی۔
ادھر ناشر کا سخت تقاضا کہ سرورق کہاں ہے۔ آخر کو میں نے اسپتال جا کر شاکر صاحب سے کہا کہ میں نے آپ کو سر ورق کی ذمہ داری سے آزاد کیا۔ طبیعت پر بوجھ مت لیں اور اچھے ہو جائیں اور واقعی اس کے تیسرے ہی دن ان کی طبیعت بحال ہو گئی اور اسپتال سے گھر منتقل ہو گئے۔
ہاں جب اس مجموعہ کی افتتاحی تقریب ہونے لگی تو جیسے شاکر صاحب سر ورق والا چڑھا قرض یہاں اتارنا چاہتے تھے۔ تقریب کی صدارت پر اس اعلان کے ساتھ آمادہ ہوئے کہ ان کہانیوں کے بارے میں انہیں ایک نکتہ سوجھا ہے، وہ بیان کریں گے۔
اسٹیج پر سہیل احمد خان ان کے برابر میں بیٹھے تھے۔ بعد میں بتایا کہ سامنے رکھے کورے کاغذوں پر وہ بہت تیزی سے دوسروں کی سنتے ہوئے کچھ لکھتے چلے جا رہے تھے مگر جب صدارتی کلمات کی باری آئی تو جانے کیا ہوا کہ چند فقرے اس رنگ سے ادا کیے کہ گونگا خود سمجھے یا گونگے کی ماں سمجھے۔ پھر سٹپٹا کر چپ ہو گئے۔
ارے وہ تو اسٹیج تھا اور سامنے مائیک جو پوری تقریر کا مطالبہ کر رہا تھا، مگر شاکر صاحب تو دوستوں کے بیچ بیٹھ کر بھی گفتگو اس طرح کرتے تھے کہ آدھا فقرہ بول کر چپ ہو گئے اور سمجھ لیا کہ فقرہ یار خود مکمل کر لیں گے اور مفہوم سمجھ لیں گے۔ ایک روز موڈ میں تھے۔ بولے ” انتظار حسین، تمہیں پتہ ہے، ہم مولانا محمد علی کے خاندان سے ہیں۔“
میں نے ہنس کر کہا کہ ”جب ہی۔“ چکرا کر بولے ”جب ہی کیا۔“
تب میں نے اپنے ”جب ہی“ کی وضاحت کی اور کہا کہ ”مولانا محمد علی قیامت کے مقرر تھے۔ ان کی گرمیٔ تقریر کو تو تحریکِ خلافت بھی زیادہ دنوں تک نہیں سہار سکی۔ جلدی ہی ڈھے گئی۔ اب پتہ چلا کہ ان کے خاندان کے حصے میں جتنی قوتِ گویائی آئی تھی وہ بھی سب انہوں نے اپنی خطابت میں سمیٹ لی تھی۔ آپ کی قوّتِ گویائی بھی اُدھر ہی سمٹ گئی۔“
مگر ایک دوست نے کیا خوب کہا کہ شاکر صاحب خود نہیں بولتے، ان کی تصویر بولتی ہے۔ میں نے کہا ’مگر وہ بھی تجریدی زبان بولتی ہے جسے سمجھنے والے ہی سمجھتے ہیں۔“
(از قلم انتظار حسین)


 

Tuesday, 27 July 2021

بابا بلھے شاہ کی نماز جنازہ کوئی کیوں پڑھنے کوتیارنہیں تھااورانہیں ہیجڑوں اوربھنگیوں نے ویرانے میں کیوں دفن کیا؟


بابا بلھے شاہ کی نماز جنازہ کوئی کیوں پڑھنے کوتیارنہیں تھااورانہیں ہیجڑوں اوربھنگیوں نے ویرانے میں کیوں دفن کیا؟


پنجابی زبان کے مشہور عوامی شاعر بابا بُلھے شاہ کی پیدائش 1680ء میں ریاست بہاولپور (پاکستان) کے ایک گاؤں “اُچ گیلانیاں” میں ہوئی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد آپ کا خاندان قصور منتقل ہو گیا آپ کے والد کا نام شاہ محمد درویش تھا۔ وہ مسجد کی امامت کرتے تھے اور بچوں کو تعلیم دیتے تھے۔ انھیں عربی، فارسی اور مذہبی علوم پر دسترس حاصل تھی۔ بابا بُلّھے شاہ کا اصل نام عبداللہ شاہ تھا ۔۔ جو بگڑ کر بُلھا شاہ اور بُلّھے شاہ ہو گیا ۔۔ اور وہ اسی نام سے مشہور ہوئے ۔

اور یہی نام خاص و عام کی زبان پر گونجنے لگا ۔۔۔ بُلّھے شاہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی ۔۔ چند دوسرے اساتذہ سے علم حاصل کرنے کے بعد علم و عرفان کی جستجو اور تڑپ آپ کو حضرت شاہ عنایت قادری کے دروازے پر لے آئی ۔۔ شاہ عنایت تصوف کے قادری سلسلے سے تعلق رکھتے تھے ۔۔ ذات کے لحاظ سے آرائیں تھے ۔۔ اور بہت سی فارسی کتابوں کے مصنف تھے ۔۔۔ وہ دوسرے صوفیاء کی طرح تارک الدُنیا نہیں تھے ۔۔ بلکہ کھیتی باڑی اور باغبانی کرتے تھے ۔۔۔

قصور میں مقیم تھے لیکن حاکم سے مخالفت کی وجہ سے لاہور منتقل ہونا پڑا اور پھر لاہور کے ہی ہو کر رہ گئے ۔۔ بُلّھے شاہ کا بچپن گاؤں میں مویشی چراتے گذرا ۔۔ والد امام مسجد تھے اور امام مسجد کی حیثیت اُس عہد میں گاؤں کے دوسرے ہنرمندوں موچی ، نائی اور جولاہوں کے برابر ہی تھی ۔۔ یہی وجہ ہے بُلّھے شاہ کامعاشرے کے پِسے ہوئے طبقات کے حوالے سے نہ صرف گہرا مشاہدہ تھا ۔۔ بلکہ آپ خود ان حالات سے گزرے تھے۔ اسی مشاہدے اور تجربے نے آگے چل کر بے باک شاعرانہ اسلوب کی بنیاد رکھی۔ اگر اُس عہد کا جائزہ لیا جائے تو سترہویں اور اٹھارویں صدی برصغیر کا پرآشوب عہد تھا۔ اس عہد نے نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کی تباہ کاریاں دیکھیں۔

 دلّی کو اجڑتے ہوئے دیکھا، لاکھوں انسان اس قتل و غارت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ دوسری جانب یہ اورنگ زیب عالمگیر کی ” مذہبی جنونیت ” کا عہد تھا ۔۔ جس میں بادشاہت کے جبر کو ملائیت میں ڈبو کر لوگوں پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی ۔۔۔ عالمگیر کے بارے میں ابنِ انشاء کا مشہور جملہ ہے کہ ” دین و دنیا دونوں پر نظر رکھتا تھا نہ اس نے کوئی نماز چھوڑی اور نہ کسی بھائی کو چھوڑا ” عوام کے ساتھ سلوک میں مذہب کو اہمیت دی جانے لگی ۔۔ اور مذہبی تعصبات کو اُبھارنے کی کوشش کی گئی ۔۔۔ جبر و استبداد اور ظلم و ناانصافی کو نماز روزے اور ٹوپیاں سینے جیسے علامتی کاموں میں لپیٹ پر روا رکھا جانے لگا ۔۔

جس پر اُسے اورنگ زیب رحمتہ اللہ علیہ کہا جانے لگا ۔۔ یوں سمجھئیے کہ وہ اُس دور کی ضیاء الحقی تھی ۔۔۔ جس میں مذہبی پیشواؤں کو بھی جبر کا موقع میسر آیا ۔ ۔ دوسری طرف اس انتشار اور مذہبی جنونیت کے خلاف ہمیں ادبی اور فکری سطح پر ایک بے مثال ردِ عمل بھی ملتا ہے۔ اسی عہد میں پنجاب نے بُلّھے شاہ (1757-1680) اور وارث شاہ (1798-1722) کو جنم دیا ۔۔۔ سندھ کی دھرتی پر شاہ لطیف بھٹائی (1752-1689) اور سچل سرمست (1826-1739) نے انمٹ نقوش چھوڑے۔ پشتو زبان میں رحمان بابا

(1711-1653) عوام کی آواز بن کر اُبھرے اردو میں خواجہ میر درد (1785-1721) اور میر تقی میر (1810-1723) نے عظیم شعری روایت کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں ۔۔۔ لیکن اس عہد کے بے مثال شعراء میں یہ اعزاز صرف بُلّھے شاہ کے حصے میں آیا کہ ان کے اشعار ، کافیاں اور دوہڑے صرف پنجاب میں ہی نہیں بلکہ سندھ ، راجستھان اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں لوگوں کے دل کی آواز بن گئے ۔۔۔ اور اس عظیم شاعر کی آواز ہندوستان کے ہر کونے اور ہر لہجے میں گونجی۔ بُلّھے شاہ کی شاعری اور زندگی مذہبی ملاؤں اور پنڈتوں سے نبرد آزما رہی ۔۔

 فرسودہ ذات پات کا نظام اور طبقاتی تفریق کو آپ نے خاص طور پر ہدفِ تنقید بنیایا ۔۔ گھسے پٹے کتابی علم سے نکل کر سماج کی زندہ حقیقتوں کو موضوع بحث بنایا ۔ مذہبی بنیادوں پر نفرت اور جھگڑے پیدا کرنے والے متعصب اور جنونی مذہبیوں کے خلاف آواز بلند کی ۔۔ اور تمام انسانوں کو ایک انسانی برادری قرار دیا ۔ آپ جب شاہ عنایت کے مرید ہوئے تو اس پر بھی اُن کی برادری اور ملّاؤں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا ۔۔ کیونکہ آپ سیّد تھے آلِ نبی اولادِ علی سے تعلق رکھتے تھے ۔۔ لیکن شاہ عنایت ذات کے آرائیں تھے جو کمتر اور گھٹیا سمجھی جاتی تھی ۔۔۔ یہ بات اُن کی برادری اور مذہبی ٹھیکیداروں کے لیے قابلِ قبول نہیں تھی کہ ایک اعلٰی خاندان اور قابلِ فخر نسبت کا حامل شخص نچلی ذات کے کسی فرد کے سامنے زانوئے تلمّذ تہہ کرے ۔ لیکن آپ نے اپنے سیّد ہونے کو ٹھکرا دیا اور سب کی مخالفت مول لے کر شاہ عنایت کو مرشد مان لیا اور اُس نسلی تفاخرسے نکل کر اپنی تشکیلِ نو کی اور ایک نئے انسان کے روپ میں سامنے آئے جو ماضی کے تمام تعصبات سے پاک ہو چکا تھا۔

 اس حوالے سے اُن کے اشعار دیکھئیے : بُلھے نوں سمجھاؤن آیاں بہناں تے بھرجائیاں آلِ نبی اولاد علی دی توں کیوں لیکاں لائیاں من لے بُلھیا ساڈا کہنا ، چھڈ دے پلّہ رائیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیہڑا سانوں سیّد آکھے ، دوزخ ملن سزائیاں جہیڑا سانوں رائیں آکھے ، بہشتیں پینگاں پائیاں جے توں لوڑیں باغ بہاراں ، طالب ہو جا رائیاں اس بغاوت پر آپ کو خاندان ، ذات اور اپنے ہم مذہبوں کی شدید مخالفت مول لینا پڑی ۔۔ لیکن آپ ڈٹے رہے ۔۔ نہ صرف یہ کہ ہر قسم کا لعن طعن برداشت کیا بلکہ اپنی شاعری اور عمل سے اُس کا جواب بھی دیا ۔

اسی دور میں جب آپ نسلی تفاخر کو خاک میں ملانے کی پاداش میں زیر عتاب تھے ۔۔ آپ نے گدھے پال لیے جو اُس عہد میں سب سے نچلے طبقے کا کام تھا ۔۔ اور کوئی باعزت شخص یہ کام نہیں کر سکتا تھا ۔۔ لیکن بُلھے شاہ اپنے آپ کو اُس سماج کے نچلے ترین طبقے میں لے آئے اور اُس کا عملی حصّہ بن گئے ۔۔ یہاں تک کہ لوگ آپ کو “کھوتیاں والا” کہہ کر پکارنے لگے۔ دقیانوسی رسوم و رواج اور روایتی بندھن آپ کو کبھی بھی پسند نہ تھے ۔۔ زندگی کے ہر موڑ پر اُن کو توڑ کر آپ کو خوشی ملتی تھی ۔۔

 مذہب ، رنگ ، نسل اور جنس کی تفریق آپ کے نزدیک ایک بے معنی چیز تھی ۔۔۔ اور انسانی وحدت اور انسانی برادری کی ہم آہنگی کے لیےزہرِ قاتل کی حیثیت رکھتی تھی ۔۔۔ آپ کے حوالے سے مشہور ہے کہ ہیجڑوں کے ساتھ گھل مل جاتے ۔۔ اُن کے ساتھ ناچنا شروع کر دیتے ۔۔ یہاں تک کہ چوکوں اور چوراہوں میں مجمع کے سامنے بھی ہیجڑوں کے ساتھ ناچتے ۔ اُن کا خاندان اور برادری اس بات سے نالاں رہتے کہ بُلھا ہر قدم پر اُن کی بے عزتی کا باعث بن رہا ہے ۔۔ شاہ عنایت کا مرید ہونے کے بعد ، گدھے پالنا اور اب ہیجڑوں کے ساتھ ناچ گانا ۔۔ لیکن آپ اپنی سرمستی اور دھن میں چلتے چلے جا رہے تھے ۔ بُلھے شاہ سے قبل بھی شعراء نے مذہبی پیشواؤں کی چیرہ دستیوں کو ہدف تنقید بنایا ہے ۔۔ لیکن جس بہادری ، جرات اور دلیری سے بُلھے شاہ نے ان مذہبی ٹھیکیداروں کو رد کیا ہے

اس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔۔ کہتے ہیں : ملّا تے مشالچی دوہاں اکو چت ، لوکاں کردے چاننا تے آپ ہنیرے وچ اسی طرح اُن مُلّاؤں کی عالمانہ اصطلاحات اور فرسودہ کتابوں کی بے معنی تکرار سے تنگ آ کر یوں اُن کا پردہ فاش کرتے ہیں : عِلموں پئے قضیے ہور اکھیں والے انھی کور پھڑ لئے ساہ تے چھڈے چور دوہیں جہانیں ہویا خوار عِلموں بس کریں او یار پڑھ پڑھ مسئلے روز سناویں کھانا شک شبہے دا کھاویں دسّیں ہور تے ہور کماویں اندر کھوٹ باہر سچیار علموں بس کریں او یار پڑھ پڑھ نفل نماز گزاریں اُچیاں بانگاں چانگھاں ماریں منبر چڑھ کے واعظ پکاریں تینوں کیتا حرص خوار علموں بس کریں او یار یہ بُلھے شاہ ہی تھا

جس نے رام رحیم کے قدیمی جھگڑے کو رد کر کے اصل مسئلے کی جانب توجہ مبذول کروائی اور اس نتازعے کو بے معنی قرار دیا ۔۔ جو ملّاؤں کا گھڑا ہوا ہے ۔۔۔ اور جس کا جدید عہد کے تقاضوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔ کتے رام داس کتے فتح محمد ایہو قدیمی شور نپٹ گیا دوہاں دا جھگڑا ، نکل پیا کوئی ہور اپنے عہد کی افراتفری ، سماجی گراوٹ اور لوٹ مار کو بُلھے شاہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ الٹے ہور زمانے آئے، تاں میں بھید سجن دے پائے کاں لگڑنوں مارن لگے، چڑیاں جرے ڈھائے پیوپتراں اتفاق نہ کائی، دھیاں نال نہ مائے آپنیاں وچ اُلفت ناہیں ، کیا چاچے کیا تائے سچیاں نوں پئے ملدے دھکّے ، جھوٹے کول بہائے کہتے ہیں

ایک مرتبہ آپ حجرے میں بیٹھے تھے۔ رمضان کا مہینہ تھ، آپ کے کچھ مرید حجرے کے باہر بیٹھے گاجریں کھا رہے تھے ۔۔ قریب سے چند روزہ دار مسلمان گذرے تو اُنھیں رمضان میں اس طرح روزہ خوری پر شدید غصّہ آیا ۔۔۔بولے ” شرم نہیں آتی رمضان کے مہینے میں چر رہے ہو ” ؟ مریدوں نے کہا ” جاؤ بھائی مومنو! بھوک لگی ہے اسی لیے کھا رہے ہیں ۔۔۔” مومنوں کو شک ہوا کہ شاید یہ مسلمان نہیں ہیں ۔۔ اُنھوں نے پوچھا کہ تم ہو کون ؟ مُریدین بولے مسلمان ہیں کیوں مسلمانوں کو بھوک نہیں لگتی ؟؟ یہ سننا تھا کہ مومنین جو گھوڑوں پر سوار تھے نیچے اُتر آئے اور مریدوں کی خوب پٹائی کی ۔۔ اور حجرے میں جا کر آپ سے پوچھا ” ارے تو کون ہے ”؟

آپ نے ہاتھ کے اشارے سے انھیں جانے کا کہا ۔۔ انھوں نے دوبارہ پوچھا ” تو کون ہے بولتا کیوں نہیں” ؟؟ آپ نے پھر جانے کا اشارہ کیا ۔۔۔ وہ آپ کو دیوانہ سمجھ کر چلے گئے ۔۔ تھوڑی دیر کے بعد مرید حجرے میں داخل ہوئے اور شکایت کی کہ اُنھوں نے ہمیں مارا ہے ۔۔

آپ نے کہا ” تم لوگوں نے ضرور کوئی قصور کیا ہو گا ۔۔۔ ” مرید بولے نہیں حضور ہم نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔انھوں نے تم سے کیا پوچھا تھا ؟ مریدین نے بتایا کہ اُنھوں نے پوچھا تھا کہ تم کون ہو تو ہم نے کہا مسلمان ہیں ۔بُلھے شاہ نے کہا کچھ بنے ہو تو مار کھائی ہے ناں ہم کچھ نہیں بنے ہمیں کسی نے کچھ نہیں کہا ۔۔” • بُلّھے شاہ کون ہے ؟ اس بارے میں آپ نے خود شعری پیرائے

میں یوں اظہارِخیال کیا ہے ۔۔ بلھیا کی جاناں میں کون ؟ نہ میں مومن وچ مسیتاں نہ میں وچ کفر دیاں ریتاں نہ میں پاکاں وچ پلیتاں نہ میں موسی نہ فرعون بلھیا کی جاناں میں کون ؟ نہ میں وچ پلیتی پاکی نہ میں وچ شادی غمناکی نہ میں آبی نہ میں خاکی نہ میں آتش نہ میں پون بلھیا کی جاناں میں کون ؟ نہ میں بھیت مذہب دا پایا نہ میں آدم ہوا جایا نہ کجھ اپنا نام دھرایا نہ وچ بیٹھن نہ وچ بھون بلھیا کی جاناں میں کون ؟ اوّل آخر آپ نوں جاناں نہ کوئی دوجا ہور پچھانا میتھوں ودھ نہ کوئی سیانا بلھیا او کھڑا ہے کون بلھیا کی جاناں میں کون ؟ بُلھے شاہ نے شاعری کے ضمن میں ایک ضخیم ورثہ چھوڑا ہے ۔۔ پنجابی کی تمام اہم اصناف کافی ِ سی حرفی ،گنڈھاں ، اٹھوارے ، دوہڑے اور بارہ ماہے اُن کے کلام میں شامل ہیں ۔۔۔ ایک مختصر پوسٹ میں اُن کے کلام ، فکر، زندگی اور اُس عہد کے حالات کی جانب محض اشارہ کرنا ہی ممکن ہو سکتا ہے ۔۔ اور اس میں بہت سے پہلوؤں کا رہ جانا بھی یقینی ہے۔ بُلھے شاہ اپنے عہد کے سماجی اور مذہبی جبر کے خلاف ایک انتہائی توانا آواز تھے جو اپنے عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر جدوجہد کرتے رہے ۔۔۔

آپ کی اعلی انسانی اقدار اور فکر و عمل کے باعث ہندو، مسلمان، سکھ اور مختلف عقیدوں سے تعلق رکھتے والے لوگ اُن سے یکساں محبت رکھتے ہیں۔ بُلّھے شاہ کی موت کے وقت (1757) اُن کے انقلابی فکر و عمل کے باعث ملّاؤں نے انھیں برادری کے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اُن پر کفر کا فتویٰ لگا کر اُن کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا تھا۔ ویسے بھی بُلھے شاہ کو ان مداریوں کی ان بیہودہ رسومات کی ضرورت بھی کہاں تھی۔ وہ تو آج بھی اپنے کروڑوں عقیدت مندوں اور مداحوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ وہ تو خود کہتا ہے۔ ” بّلھے شاہ اساں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور “